Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’لاپتہ‘ انڈین اہلکار ہائی کمیشن کے حوالے کر دیے گئے

دونوں اہلکار ستمبر 2017 سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں
اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے غیر سفارتی عملے کے دو اہلکاروں کو تھانہ سیکرٹریٹ کی پولیس نے تیز رفتار گاڑی سے راہ گیر کو زخمی کرنے اور جعلی پاکستانی کرنسی رکھنے کے جرم میں گرفتار کرکے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ 
انڈین ہائی کمیشن نے واقعے کا علم ہونے سے قبل وزارت خارجہ کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ ہائی کمیشن کے دو اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں۔ 
خیال رہے کہ پاکستان اور انڈیا میں تعینات سفارتی اہلکار اکثر و بیشتر ایک دوسرے کے سکیورٹی  اداروں کی جانب سے ہراساں ہونے کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔ 31 مئی کو انڈیا کی وزارت خارجہ نے دو پاکستانی اہلکاروں پر جاسوسی کا الزام لگا کر انہیں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ 
پاکستان کی ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ان الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا تھا۔ 
تھانہ سیکرٹریٹ میں سب انسپکٹر زاہد اختر کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق تھانہ سیکرٹریٹ کو اطلاع ملی کہ ایک تیز رفتار گاڑی جس میں دو افراد سوار تھے، نے ایک نامعلوم پیدل راہ گیر کو غفلت سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے زخمی کر دیا ہے۔ 
پولیس نے موقعے پر پہنچ کر دریافت کیا تو دونوں افراد کی شناخت دویمو براہم اور پال سلوادھاس کے نام سے ہوئی جنھوں نے اپنا پتہ انڈین ہائی کمیشن ڈپلومیٹک انکلیو اسلام آباد بتایا۔ گاڑی پال سلوادھاس چلا رہے تھے۔ 

گذشتہ دنوں جاسوسی کے الزام میں انڈیا نے دو پاکستانی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا (فوٹو: روئٹرز)

ایف آئی آر کے مطابق ضابطے کے تحت جب جامہ تلاشی لی گئی تو ڈرائیور کی پتلون کی پچھلی جیب سے 10 ہزار جعلی پاکستانی روپے بھی برآمد ہوئے۔ پولیس نے ڈرائیونگ میں غفلت برتنے اور جعلی کرنسی رکھنے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی۔ 
دوسری جانب پولیس نے جب وزارت خارجہ کو واقعے سے آگاہ کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے بارے میں معلومات مانگیں تو دفتر خارجہ نے بتایا پروٹوکول ڈویژن کے پاس معلومات کے مطابق دونوں اہلکار غیر سفارتی عملے کا حصہ ہیں۔
دونوں کی تعیناتی ستمبر 2017 میں ہوئی تھی اور پاکستان میں ان کی سروس 30 ستمبر 2020 کو اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ 
دفتر خارجہ اور انڈین ہائی کمیشن کی مداخلت کے بعد دونوں اہلکاروں کو پانچ گھنٹے تھانے میں رکھنے کے بعد انڈین ہائی کمیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ 
انڈین وزارت خارجہ نے پاکستان کے نئی دہلی میں ناظم الامور کو طلب کر کے واقعے پر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔

انڈیا میں پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کیے جانے کی شکایت ہے (فوٹو: روئٹرز)

انڈین وزارت خارجہ کا مؤقف ہے کہ سرکاری ڈیوٹی پر موجود اہلکار صبح سے لاپتہ تھے۔ 
دوسری جانب پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں آج سوموار کے دن بھی پاکستانی عملے کو ہراساں کرنے کے تین واقعات پیش آئے۔
سفارتی اہلکاروں کے مطابق انڈین ایجنسیوں کی جانب سے سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ 

شیئر: