Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان اور انڈیا میں جنگ ہو سکتی ہے؟

پاکستان اور انڈیا کے سابق جرنیلوں کے مطابق دونوں ممالک میں جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
انڈیا کی طرف سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حثییت تبدیل کرنے کے بعد دونوں ممالک میں جنگ کے خطرات کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔
 پیر کو قوم سے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں خطرہ ہے کہ انڈیا کی حکومت جس طرح کے اقدامات کر رہی ہے، اس سے برِصغیر میں ایٹمی جنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تاہم اردو نیوز نے اس حوالے سے انڈیا اور پاکستان میں اہم عہدوں پر رہنے والے ریٹائرڈ جرنیلوں سے گفتگو کی جس میں تقریباً سب کی رائے تھی کہ دونوں ممالک میں جنگ کا کوئی فوری امکان نہیں ہے۔

کشمیر فوجی طور پر نہیں لیا جا سکتا: جنرل آصف یاسین

پاکستان کےسابق سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین مَلِک کے خیال میں جنگ نہیں ہو گی کیوں کہ جنگیں سیاسی مقاصد کے لیے لڑی جاتی ہیں فوجی مقاصد کے لیے نہیں۔ اس وقت پاکستان اور انڈیا کے جنگ سے کیا سیاسی مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں اور ایسے کون سے مقاصد ہیں جو دونوں ممالک کی پہنچ میں بھی ہوں۔

 


لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف یاسین ملک کے خیال میں جنگیں سیاسی مقاصد کے لیے لڑی جاتی ہیں، پاکستان اور انڈیا کو جنگ سے کوئی سیاسی فائدہ نہں ہوگا۔ فوٹو: این ڈی یو

سوال یہ ہے کہ انڈیا کے کیا سیاسی مقاصد ہیں؟ کیا پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے؟ چپ کروانا ہے؟ یا گھٹنوں پر لانا ہے؟ ایسا نہیں لگتا کہ انڈیا کے یہ مقاصد ہوں گے اور وہ اس کے لیے جنگ کرے گا۔ انڈیا کی معاشی حالت اس وقت ٹھیک نہیں ہے اگر وہ جنگ چھیڑے تو اس کی معیشت کو بہت نقصان ہوگا۔ نئے سرمایہ کار نہیں آئیں گے بلکہ کچھ پرانے بھی بھاگ جائیں گے، انڈیا کے لیے مغربی ممالک ٹریول ایڈوائزری جاری کر دیں گے، سمندری جہاز آنا کم ہو جائیں گے اور کاروبار کو شدید نقصان ہو گا۔
دوسری طرف جنگ پاکستان کے لیے کسی طرح فائدہ مند نہیں۔ کشمیر فوجی طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ کشمیر کے لیے جو جنگ کرنی تھی وہ کارگل میں کر لی تھی اب نہیں ہو گی۔
اگر ہم حملہ کر بھی دیں تو کیا کشمیریوں کو حق خود ارادیت مل جائے گا؟

انڈیا کسی صورت جنگ نہیں چاہتا: جنرل کدیان

انڈیا کے سابق ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ راج کدیان کے مطابق انڈیا کسی صورت جنگ نہیں چاہتا جبکہ پاکستان کے معاشی حالات جنگ کی اجازت نہیں دیتے۔ ’جنگ کسی مسئلے کو حل نہیں کرتی۔ انڈیا نے جو کرنا تھا کشمیر میں اندرونی طور پر کر لیا اور وہ مزید کچھ نہیں کرنا چاہتا۔ میرے خیال میں پاکستان کو بھی اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

 


 لیفٹیننٹ جنرل (ر) راج کدیان کے مطابق انڈیا کسی صورت جنگ نہیں چاہتا۔ فوٹو:ساحل آن لائن

’سیاسی رہنماؤں کو وہ بیانات دینے پڑتے ہیں جو لوگ سننا چاہتے ہیں مگرمیرے نزدیک جنگ کا کوئی خطرہ نہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انڈیا کنٹرول لائن پار نہیں کرنا چاہتا ایسی صورت میں جنگ صرف پاکستان شروع کر سکتا ہے مگر پاکستان معاشی طور پراس پوزیشن میں نہیں ہے۔

حالات انڈیا کے قابو سے باہر جا سکتے ہیں: جنرل جنجوعہ

پاکستان کی قومی سلامتی کے سابق مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ کہتے ہیں کہ اگر انڈیا حالات مزید خراب کرے گا تو حالات جنگ کی طرف چلے جائیں گے اور پاکستان کو جنگ کرنا پڑی تو کرے گا۔

 


 لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ کہتے ہیں کہ اگر انڈیا حالات مزید خراب کرے گا تو حالات جنگ کی طرف چلے جائیں گے۔ فوٹو: دی کوئنٹ

’کچھ چیزوں کا ادراک ہونا چاہیے۔ جس طرح کے حالات ہیں انڈیا نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگر وہ حالات اور خراب کریں گے تو کیا ہم چپ بیٹھے رہیں گے؟‘
ان سے پوچھا گیا کہ انڈیا کیوں جنگ چاہے گا تو ان کا کہنا تھا کہ حالات انڈیا کے کنٹرول سے باہر بھی جا سکتے ہیں جس سے جنگ والا ماحول بن سکتا ہے۔

انڈیا پاکستان کو تباہ نہیں کرنا چاہتا:جنرل سہگل

انڈیا میں آرمی وار کالج مہو کے سابق کمانڈنٹ میجر جنرل ریٹائرڈ پی کے سہگل کے مطابق جنگ کا ذرا بھر امکان نہیں کیونکہ دونوں ممالک کو علم ہے کہ کوئی جنگ نہیں جیت سکتا اور اس کا دونوں ممالک کو نقصان ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ انڈیا پاکستان کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ انڈیا کی ایسی کوئی خواہش نہیں اور ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

 


میجر جنرل (ر) پی کے سہگل کے مطابق جنگ کا ذرا بھر امکان نہیں۔ فوٹو: اے این آئی

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی جنگ کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ اس کے لیے بہت زیادہ معاشی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان کے بارڈر سے اپنی فوج ہٹانے کے لیے ہزاروں ٹرینیں درکار ہوں گی اور موجودہ حالات میں ایسا ممکن نہیں ہے۔

شیئر: