Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وزارت بلدیات سمیت 8ادارے کرایہ نامہ طلب کرینگے

طائف۔۔۔۔۔وزارت بلدیات و دیہی امور ، وزارت تجارت، وزارت صحت ، وزارت تعلیم، وزارت محنت و سماجی امور ، وزارت انصاف ، بجلی کمپنی اور پانی کمپنی صارفین سے کرایہ معاہدہ طلب کرینگی۔ 8اداروں میں سے ہر ایک نے طے کیا کہ صارفین کو ایجار آن لائن اندراج کا پابند بنایا جائے گا۔المدینہ اخبار کے مطابق اس پابندی پر عملدرآمد کے نتیجے میں ویزوں کے کاروبار کا خاتمہ ہوگا۔ بعض شہری فرضی طور پر دکان کا کرایہ معاہدہ فرضی طور پر حاصل کرلیتے ہیں تاکہ وزارت محنت سے ویزے جاری کراسکیں۔ ان کا مقصد کاروبار نہیں ہوگا ۔ نئی پابندی کے نتیجے میں ویزوں کا دھندہ کرنیوالے گرفت آجائیں گے۔ علاوہ ازیں متعدد شعبوں میں ایک ہی سروس سے ایک سے زیادہ استفادہ کرنیوالے افراد کو بھی روک لگے گی۔جلد ہی کرائے کے معاہدے کو بجلی میٹر سے بھی مربوط کیا جائے گا تاکہ ایک مکان میں ایک سے زیادہ کرائے داروں کا چکر بھی ختم ہوجائے گا۔آن لائن کرائے معاہدے کے اندراج کا مقصد کرائے دار اور مالک کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت مالک مکان کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ فلیٹ کی صفائی کا اہتمام کرے اور مکان حوالے کرنے سے قبل اس کی اصلاح و مرمت کرائے۔ کرائے دار کی پرائیویسی کا اہتمام کرے۔ صحت و سلامتی کے ضابطے کی پابندی کرے۔ عمارت کی سلامتی کو یقینی بنانے والے اقدامات کرے۔ عمارت یا مکان میں ہونیوالی ایسی خرابی جس سے کرائے دار کی سلامتی متاثر ہو اس کی اصلاح کرائے۔متعلقہ اداروں کی جانب سے مقررہ فیس ادا کرے۔ عمارت یا فلیٹ فروخت کرنے کی صورت میں کرایہ دار کے متفقہ حقوق کے تحفظ کا اہتمام کرے۔کرایہ دار کو مقررہ وقت پر کرایہ ادا کرنا ہوگا۔ معاہدے کی تمام دفعات کی پابندی کرنا ہوگی۔ عمارت میں موجود دیگر مکینوںکو پریشان کرنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔ جس حال میں فلیٹ لیا ہوگا اسی حال میںواپس کرنا ہوگا۔ کرائے معاہدے کی جملہ تفصیلات پڑھ کر ہی دستخط کرنے ہونگے اگر کرایہ ادا نہیں کیا یا بجلی پانی فون کے بل ادا نہ کیا ، فلیٹ کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ، اسے مطلوبہ مقصد کے سوا کسی اور ہدف کیلئے استعمال کیا تو ایسی حالت میں اسے کرایہ معاہدہ کی خلاف ورزی کرنیوالا شمار کیا جائے گا۔مالک مکان ہی آن لائن کرایہ معاہدہ کا اندراج کرائے گا۔ کرایہ دار کی شناخت حاصل کرنا مالک کی ذمہ داری ہوگی۔

شیئر: