Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایک لاکھ 20 ہزار سال پرانے انسانی قدموں کے نشانات

جزیرہ عرب میں قدیم ترین انسان کی موجودگی کا پہلا سائنٹفک ثبوت ہے۔(فوٹو ٹوئٹر)
سعودی عرب میں ایک لاکھ 20 ہزار سال پرانے درندوں اور انسان کے قدموں کے نشانات دریافت ہو ئے ہیں۔ یہ نشانات تبوک ریجن میں پرانی خشک جھیل کے اطراف سعودی بین الاقوامی ماہرین آثار قدیمہ نے دریافت کیے ہیں۔
العربیہ نیٹ کے مطابق اس اہم  تاریخی دریافت کا اعلان وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان آل سعود کی سرپرستی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا گیا ہے۔ 
محکمہ آثار قدیمہ کے سربراہ ڈاکٹر جاسر الحربش نے بتایا کہ یہ دریافت جزیرہ عرب میں قدیم ترین انسان کی موجودگی کا پہلا سائنٹفک ثبوت ہے۔ اس دریافت نے دنیا کے اس اہم علاقے میں انسان کے سفر کے دوران حیاتیاتی ماحول کا بھی اچھوتا ثبوت مہیا کیا ہے۔  

اونٹوں کے 107 نشانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔(فوٹو ایس پی اے)

الحربش نے بتایا کہ ماہرین آثار قدیمہ کے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ یہاں النفود صحرا میں سیکڑوں قدرتی جھیلیں تھیں۔ جہاں انواع و اقسام کے جانور کثیر تعداد میں آباد تھے۔ یہاں 7 انسانوں کے قدموں کے نشانات ملے ہیں جبکہ اونٹوں کے 107 نشانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ہاتھیوں کے 43 نشانات ملے ہیں۔
علاوہ ازیں مختلف جانوروں کے جن میں چھوٹے بڑے سب شامل ہیں، کے نشانات بھی ریکارڈ پر آئے ہیں۔ یہاں ہاتھیوں کی ہڈیوں کی 233  محجر باقیات ملی ہیں۔  
سعودی اور بین الاقوامی ماہرین آثار قدیمہ کے مطالعات سے تاریخی آثار کی 7 تہیں دریافت ہوئی ہیں۔ جہاں پتھروں سے بنی اشیا طبعی حالت میں موجود تھیں۔ مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم زمانے میں یہاں پتھروں کی ترقی یافتہ صنعت پائی جاتی تھی اور یہاں سنگی کلہاڑیاں ملی ہیں۔

سعودی اور غیرملکی ماہرین دس برس سے زیادہ عرصے سے کام کررہے ہیں۔(فوٹو ایس پی اے)

الحربش نے بتایا کہ اس تاریخی دریافت میں جرمنی، برطانیہ، آسٹریلیا کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کنگ سعود یونیورسٹی، جیولوجیکل سروے بورڈ اور آرامکو شامل ہیں۔
یہ ٹیم ’سبز جزیرہ عرب‘ کے زیر عنوان  سائنٹفک پروجیکٹ کا ثمر ہے۔ سعودی اور غیرملکی ماہرین دس برس سے زیادہ عرصے سے  تبوک، نجران، ریاض، حائل اور مدینہ منورہ میں مختلف مقامات پر تاریخی کھدائیاں، تلاش اور مطالعات کا کام کررہے ہیں۔
ماہرین کی تحقیق سے اس دعوے کو تقویت پہنچی ہے کہ اب سے 5 لاکھ برس پرانے تاریخی مقامات اور ماحولیاتی ریکارڈ سے یہ علاقہ مالا مال ہے۔ یہاں جزیرہ عرب کے تمام علاقوں میں جھیلیں اور دریا ہوا کرتے تھے۔ ان کی وجہ سے بڑی بڑی آبادیاں تھیں۔ جزیرہ عرب، افریقہ اور ایشیا کی شاہراہوں کا سنگم بنا ہوا تھا۔ 

    شیئر: