Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

'ریٹنگ کے لیے کچھ بھی؟' ندا یاسر نشانے پر

ندا یاسر کے سوالات پر بچی کے والد کئی بار آبدیدہ ہوئے (فوٹو:انسٹاگرام)
پاکستان میں ڈراموں اور فلموں کے ساتھ ساتھ اینٹرٹینمنٹ کے لیے پروگرامز خواتین میں کافی مقبول ہیں ان میں 'مارننگ شوز' سرفہرست ہیں۔ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ یہ مارننگ شوز دیکھے بغیر تو کئی خواتین کے دن کا آغاز ہی نہیں ہوتا۔ 
ان شوز میں نہ صرف خواتین کو درپیش مسائل پر بات کی جاتی ہے بلکہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی صحت کا خیال کیسے رکھ سکتی ہیں اور کس طرح اپ ٹو ڈیٹ نظر آ سکتی ہیں۔
لیکن گذشتہ چند سالوں سے مارننگ شوز کے کانٹینٹ پر خاصی تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ جب سے ان شوز میں شادیوں کے رجحان نے زور پکڑا اور تفریح کے نام پر ہلڑبازی دکھائی جانے لگی تو ان شوز کے شوقین سے زیادہ ناقدین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔
مارننگ شوز کی بات ہو اور ندا یاسر کا نام نہ آئے یہ تو ممکن ہی نہیں۔ نجی ٹی وی چینل اے آر وائے میں طویل عرصے سے مارننگ شو کرنے والی ندا یاسر پر پہلے بھی تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے مہمانوں سے کوئی بھی ذاتی سوال کر دیتی ہیں۔
اب ایک بار پھر ان کے شو پر تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے چند روز قبل کراچی میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی پانچ سالہ بچی کے والدین کو اپنے شو میں مدعو کیا اور ان سے واقعے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی جو ان کے لیے کسی طور آسان نہیں تھا۔
ندا یاسر کے سوالات پر کئی بار وہ آبدیدہ ہوئے جس سے معلوم ہو رہا تھا کہ اپنی بچی کے ساتھ پیش آنے والے اندوہناک واقعے کو بیان کرنا ان کے لیے کتنا تکلیف دہ ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے غمزدہ والدین کو بلا کر ان سے کرید کرید کر سوالات کرنے پر ندا یاسر کو اپنی ٹویٹس میں کھری کھری سنائیں اور اسے  ریٹنگ حاصل کرنے کا 'بھونڈا طریقہ' قرار دیا۔ 
مینا رفیق نامی صارف نے لکھا کہ 'اور اب ندا یاسر کے مارننگ شو میں بچی کے والدین کو بھی بلا لیا۔ یعنی کہ اب ان کو مزید اذیت دیں گے۔ اتنے سنجیدہ  معاملے پر بھی مارنگ شو ۔ کل آپ کسی کی شادی دیکھا کے گانے چلا دیں گے اور یہ ایک شو بھول جائیں گے۔ لوگوں کے دکھ پر بھی ریٹنگ۔'

عمر بن خالد نامی صارف نے لکھا کہ 'ندا یاسر صاحبہ نے اپنے مارننگ شو میں ایک پانچ سالہ بچی کے والدین کو بلایا جس کے ساتھ افسوسناک ریپ کا واقعہ ہوا تھا اور صرف اپنی ٹی وی ریٹنگز کے چکر میں ان سے ریپ کے واقعے کی تفصیلات پوچھیں۔ کربناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بچی کے والدین پر کیا بیتا ہوگا؟'

ملک صاحب کے نام سے ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ 'ندا یاسر نے ہمیشہ اپنی حد سےتجاوز کیا ہے لیکن اس بار انہوں نے جرم کیا ہے۔ یہ ایک اینٹرٹینمنٹ مارننگ شو مانا جاتا ہے۔ پانچ سالہ بچی کے ریپ اور قتل پر اس کے والدین سے تفتیش اینٹرٹینمنٹ نہیں ہے۔'
 

عبدالباسط اکرام نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ 'ساری اوٹ پٹانگ حرکتیں ندا یاسر کے شو میں ہی ہوتی ہیں۔TRP کے لئے کچھ بھی چلے گا۔'

شیئر: