Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’عسکری قیادت پر تنقید، ن لیگ کی مقبولیت کم ہو گی‘

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القیوم نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اس وقت ملک کی مقبولت ترین جماعت ہے، لیکن قیادت کی طرف سے عسکری قیادت پر تنقید ہوتی رہی تو اس سے پارٹی کی عوامی مقبولیت میں کمی آئی گی۔    
اسلام آباد میں اردو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القیوم نے پارٹی قیادت کی جانب سے عسکری قیادت پر کی جانے والی تنقید کے بارے کہا کہ ’مسلم لیگ ن ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اور عوام میں پذیرائی بھی حاصل ہے، اس کی ایک وجہ حکومت کی ناکامیاں اور مہنگائی سے عوام کا بھی تنگ ہونا ہے۔ لیکن اگر قیادت کی طرف سے ایسا کوئی بیان آئے گا جس میں افواج پاکستان یا عدلیہ پر تنقید کریں گے اور اس سے اجتناب نہیں کریں گے، ان پر بلواسطہ یا بلاواسطہ بات کریں گے تو اس سے مسلم لیگ ن کی مقبولیت پر فرق پڑسکتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر احتساب کا ایک نظام موجود ہے جس پر یقین رکھنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ’فوج میں فرشتے موجود نہیں ہیں لیکن اس کا ایک نظام ہے آپ کبھی بھی حاضر سروس افراد کو ادارے سے الگ نہیں کر سکتے‘۔

’سیاسی طور پر فائدہ لیکن نقصان ملک کا‘

سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القیوم نے کہا ہے کہ عسکری قیادت پر تنقید کرنے سے وقتی طور پر سیاسی فائدہ تو حاصل ہو سکتا ہے لیکن اس کا نقصان ملک کو ہوگا۔  

’اگر آپ کسی فرد پر بھی بات کریں گے تو اس کا اثر ادارے پر پڑے گا۔ اگر ان پر گولہ باری کی جائے گی تو سیاسی طور پر فائدہ تو ہوگا لیکن ملک کا نقصان ہوگا۔ اداروں کے اندر حاضر سروس افراد پر اگر بات کریں گے تو ادارے کو نقصان ہوگا۔‘ 
 انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف دکھی ہیں کہ ان کو غلط طریقہ سے حکومت اور پارٹی کی صدارت سے الگ کیا گیا، ان کا نقطہ نظر درست ہو یا غلط، ایسی کوئی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے فوج پر حرف آئے۔
’نواز شریف  کا نقطہ نظر ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا وہ دکھی محسوس کرتے ہیں۔ ایک اقامہ کی بنیاد پر ان کی حکومت ختم کی گئی،  یہی وجہ ہے کہ انہوں نے یہ بیانیہ لیا کہ یہ سب ایک منظم طریقے سے ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اگر ان کا گلہ کسی ریٹائرڈ افسر سے ہے تو اس کے لیے عدالتیں حاضر ہیں اور اگر کسی حاضر سروس افسر کے بارے میں ہے تو اس کے لیے بھی طریقہ کار موجود ہے، لیکن باہر سے اگر نام لے کر  تنقید کرتے ہیں، آپ کی بات  درست بھی ہوسکتی ہے غلط بھی، یہ آپ کی ایک سوچ ہے لیکن اس کا فرق ادارے کے اوپر پڑتا ہے۔‘
 

’یہ ایک بدقسمتی ہے کہ عبد القادر بلوچ نے پارٹی چھوڑی ہے۔‘ (فوٹو: ٹوئٹر)

عبدالقادر بلوچ کے استعفے پر ردعمل

مسلم لیگ ن کے رہنما عبد القادر بلوچ کے استعفے پر ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ جلسے میں سردار نواب زہری کے معاملے پر غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ نوازشریف کے بیانیےسے وہ متفق نہیں اور یہ ان کا حق ہے کہ وہ کسی بات سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں اور نوازشریف کے بہت سے دیگر مخلص ساتھی بھی ان کے بیانیے سے اتفاق نہیں کرتے ہوں گے۔ 
 ’بہت سے لوگ  پارٹی کے اندر اور باہر بھی جو نوازشریف کے ساتھ مخلص ہیں اور ان کے اپنے بھائی بھی کہتے ہوں گے کہ ہمیں کوئی ایسی بات نہیں کرنی اور خود نوازشریف بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ میں ادارے پر بات نہیں کرنا چاہ رہا لیکن جب آپ افراد پر بات کرتے ہیں توادارے پر بات آتی ہے،  یہ ایک بدقسمتی ہے کہ عبد القادر بلوچ نے پارٹی چھوڑی ہے اور بوجھل دل کے ساتھ انہوں نے استعفیٰ دیا ہوگا۔‘ 

’ایاز صادق کو متنازع بیان سے اجتناب کرنا چاہیے تھا‘

گذشتہ ہفتے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق سپیکر کی جانب سے انڈین پائلٹ ابھینندن کی رہائی کے حوالے سے بیان پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ’ایاز صادق ایک منجھے ہوئے اور شائستہ سیاستدان ہیں لیکن پارلیمنٹ کے فلور پر کوئی ایسی بات کرنا جس کا دشمن فائدہ لے وہ جائز نہیں۔ وہ اس بات سے اجتناب کرتے تو بہتر تھا۔‘ 

’شاہ محمود قریشی کے بارے میں بھی پارلیمنٹ کے فلور پر ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘ (فوٹو: ٹوئٹر)

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کوئی ایسا موقع نہیں فراہم کرنا چاہیے جس سے ملک کی سلامتی پر کوئی حرف آئے، اس حوالے سے ایاز صادق نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے یہ بات شاہ محمود قریشی کے بارے میں کہی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ شاہ محمود قریشی کے بارے میں بھی پارلیمنٹ کے فلور پر ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘ 
مسلم لیگ ن کے ساتھ سیاسی مستقبل کے بارے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القیوم کا کہنا تھا کہ جب تک پارٹی کو ان کی ضرورت ہے وہ کام کرتے رہیں گے لیکن وہ کبھی بھی پارٹی یا ذاتی مفاد کو پارٹی مفاد پر ترجیح نہیں دیں گے۔

شیئر: