Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمور زیادتی کیس، ملزم ’اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ‘ سے ہلاک

کراچی کی رہائشی خاتون کی بچی کو پہلے شیخ زید ہسپتال لاڑکانہ اور بعد ازاں کراچی منتقل کر دیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع کشمور میں ایک خاتون اور ان کی چار سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والا ملزم اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے مارا گیا، جبکہ فائرنگ کرنے والے دوسرے ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ 
ایس پی کشمور امجد شیخ نے اردو نیوز کو بتایا کہ پولیس مرکزی ملزم رفیق کے بعد ان کے ساتھی خیراللہ کو گرفتار کرنے جا رہی تھی کہ سپر ہائی وے کے قریب بخشاپور میں خیراللہ نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔
’فائرنگ سے ملزم رفیق مارا گیا جبکہ ان کے ساتھی خیراللہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔’
پولیس حکام کے مطابق کشمور کے رہائشی رفیق کراچی میں رہائش پذیر 45 سالہ طلاق یافتہ خاتون کو نوکری کا جھانسہ دے کر کشمور لائے اور اپنے ساتھی کے ساتھ ماں اور ان کی چار سال کی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔
صحافی نذر عباس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ملزمان نے بعد میں خاتون کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ ایک اور لڑکی ہمیں دے جائیں اور اپنی بچی لے جائیں۔ تھانہ کشمور کے اے ایس آئی محمد بخش نے خاتون کی شکایت پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے منصوبہ بندی کی۔
انہوں نے ایک اور خاتون کی ملزمان سے بات کرائی کہ وہ ان کے پاس نوکری کرنا چاہتی ہے۔ مرکزی ملزم رفیق، کشمور میں خاتون سے ملنے کے لیے پارک میں پہنچے تو اے ایس آئی محمد بخش نے انہیں گرفتار کر لیا۔‘
بعد ازاں کراچی کی رہائشی خاتون کی بچی کو پہلے شیخ زید ہسپتال لاڑکانہ اور پھر کراچی منتقل کر دیا گیا۔ ‘
سندھ حکومت نے اے ایس آئی کے لیے دس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے جبکہ اے ایس آئی نے اپنے بیٹے کو نوکری دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر: