Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش میں 68 فیصد خواتین سائبر کرائمز کا شکار

سروس شروع کرنے کے بعد 1000 فون کالز رجسٹرڈ کیں۔(فائل فوٹو اے ایف پی)
بنگلہ دیش میں خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے آن لائن بدسلوکی کا مقابلہ کرنے کے لیے آل فیمیل ٹیم شروع کرنے کے دو دن بعد بنگلہ دیشی پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں سائبر ہراسمینٹ کی تقریبا 1000  شکایات موصول ہوئی ہیں۔
پولیس سائبر سپورٹ فار وویمن کی اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نسرین اختر نے عرب نیوز کو بتایا ’فون مسلسل بجتے رہے۔ ہمیں پورے ملک سے خواتین کی کالیں موصول ہو رہی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’سروس شروع کرنے کے بعد سے ہم نے تقریباً 1000 فون کالز رجسٹرڈ کیں۔‘
بنگلہ دیش کے پولیس سربراہ بے نظیر احمد نے خواتین کے خلاف صنف پر مبنی تشدد اور سائبر کرائمز میں اضافے کی بڑھتی ہوئی عوامی تشویش کے بعد سائبر سپورٹ یونٹ کا آغاز کیا تھا۔
نظیر احمد نے کہا ’سائبر سپیس میں تقریبا 68 فیصد خواتین سائبر کرائمز کا شکار ہو چکی ہیں۔ ان میں سے 73 فیصد کو سائبر دھونس یا ہراساں کیا گیا ہے۔‘
پولیس کو امید ہے کہ یہ یونٹ خواتین کو ڈیجیٹل بدسلوکی بشمول’ریونج پورن‘ کی اطلاع دینے کی ترغیب دے گا، سوشل میڈیا کے مواد کا غلط استعمال اور بلیک میل کیونکہ شکایت کنندہ اپنی ذاتی تفصیلات مردوں کی بجائے آل وویمن ٹیم کے ساتھ شیئر کریں گی۔
سسٹنٹ انسپیکٹر جنرل آف پولیس سہیل رانا نے عرب نیوز کو بتایا ’اگرچہ ہمارے پاس سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے متعدد ماہر یونٹس تھے لیکن خواتین اور بچوں کی خصوصی طور پر مدد کرنے والا کوئی یونٹ نہیں تھا۔‘
بنگلہ دیش ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری کمیشن کے مطابق ملک میں 100 ملین سے زیادہ فعال انٹرنیٹ یوزرز ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ موبائل انٹرنیٹ کا استعمال مردوں میں 33 فیصد اور خواتین میں 16 فیصد تک محدود ہے۔
سہیل رانا نے کہا کہ انٹرنیٹ کے استعمال میں مستقل اضافے کے ساتھ ایک ’خصوصی‘ جگہ بنانا ضروری تھا جہاں خواتین سائبر کرائمز سے متعلق مسائل پر آواز اٹھا سکتی ہیں۔

 گینگ ریپ کے واقعات کے بعد بنگلہ دیش میں مظاہرے ہوئے تھے۔(فائل فوٹو اے پی)

ا نہوں نے کہا ’ بہت سی شکایات ہراساں کرنے کے بارے میں ہیں، ہم شکایات درج کرتے ہیں اور ضروری قانونی مشورے فراہم کرتے ہیں۔‘
اس یونٹ میں 12 پولیس افسران ملازم ہیں جو صبح 9 بجے سے رات 10 بجے تک ہفتے میں سات دن متاثرین کو مدد فراہم کرتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے پولیس سربراہ بے نظیر احمد نے کہا ہمیں ہاٹ لائن اور اپنے فیس بک پیج کے ذریعے شکایات موصول ہوتی ہیں۔ کچھ معاملات میں ہم فوری حل فراہم کرتے ہیں لیکن اگر اس معاملے میں مزید تفتیش کی ضرورت ہو تو  ہم انہیں سرکاری شکایت درج کرنے کے لیے قریبی پولیس سٹیشن بھیج دیتے ہیں۔‘
تمام معاملات میں ’شکایت کنندہ کی شناخت خفیہ رکھی جاتی ہے۔‘
خواتین کے سائبر سپورٹ یونٹ کے اجرا سے سزا یافتہ عصمت دری کرنے والوں کے لیے سزائے موت کی سزا متعارف کرانے کے قانون کی پیروی کی جاتی ہے۔
ملک کے نوکھالی اور سلہٹ اضلاع میں گینگ ریپ کے دو واقعات کے بعد بنگلہ دیش میں  ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔
تاہم کارکنوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ مہینے ریپ کیسز کے واقعات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے نہ تو سزائے موت اور نہ ہی سائبر یونٹ کے اجرا سے ’حقیقت بدل جائے گی۔‘

عوامی تشویش کے بعد سائبر سپورٹ یونٹ کا آغاز کیا گیا تھا( فوٹو ٹوئٹر)

ایک میڈیا آؤٹ لٹ کے مطابق  چار ہفتوں سے لے کر 13 نومبر تک ملک میں ریپ کے 183 واقعات رپورٹ ہوئے یہ پچھلے مہینے کے مقابلے میں 58 فیصد اضافہ ہے۔
خواتین اور صنف کے ماہر پولیس کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن وہ خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کو محدود کرنے کے لیے ’مربوط مہم‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ڈھاکا یونیورسٹی کی پروفیسر تانیہ حق نے عرب نیوز کو بتایا  ’بہت سی خواتین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے صحیح استعمال کو نہیں جانتی ہیں۔ انہیں اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ وہ خود کو  زیادتیوں سے کیسے بچائیں۔‘
انہوں نے مزید کہا  ’ہمیں اس قسم کے جرم کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم کے ذریعےتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘

شیئر: