Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مصری مصور نے پنسل پر حیران کن یادگاریں تراش دیں

یہ مصر اور مشرق وسطی میں اپنی نوعیت کی پہلی نمائش ہے۔(فوٹو: العربیہ ڈاٹ نیٹ)
مصر کے صوبہ البحیرہ کے 28 سالہ مصور ابراہیم بلال نے پنسل  پر مصر اوراسلامی قدیم  تاریخی  یادگاریں تراشی ہیں، جنہیں اسلامی آرٹ میوزیم میں رکھا جائے گا۔
قاہرہ کے اسلامی آرٹ میوزیم  کے 117 ویں  سالگرہ کے موقع  آرٹ میوزیم کی نمائش جاری ہے جو 13 جنوری تک جاری رہےگی۔ اس نمائش میں یہ فن پارے رکھے گئے ہیں۔
یہ مصر اور مشرق وسطی میں اپنی نوعیت کی پہلی نمائش ہے۔
 
ابراہیم بلال نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کوبتایا کہ انہوں نے اس فن کو خود سیکھنے کی کوشش شروع کی۔ ’میرا کوئی باقاعدہ استاد نہیں تھا، میں نے تراشنے کے مختلف تجربے کیے، مجھے پنسلوں پر تراشتے ہوئے تین سال کا عرصہ ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے ’انسٹاگرام‘ پر ایک فنکار کا یہ ڈیزائن پسند آیا تو میں نے اس پر غور شروع کردیا، میں اس کی دقت نظری اور ڈیزائن پر حیران بھی تھا۔ اس لیے میں نے اس جیسا  تراشنے کی مشق شروع کردی اور 20 بار سے زائد تجربہ کے بعد اس جیسا فن پارہ تراشنے میں کامیاب ہوگیا۔‘
ابراہیم نے مزید کہا ’میں نے مصری نوادرات کو فروغ دینے کے لئے تاریخی نوادرات کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکےاس فن کو استعمال کرنے کی کوشش کی ، یہ پنسل کی تین ملی لیٹر چوڑائی سے تجاوز نہیں کرتا ہے۔
میوزیم آف اسلامک آرٹ کے قیام کی 117 ویں سالگرہ کے دوران میں نے پنسلوں کے ان فن پاروں کے 20 نمایاں مجموعے پیش کیے ، جو مصر اور مشرق وسطی میں اس نوعیت کی پہلی نمائش ہے۔‘
ابراہیم نے مزید کہا کہ ’اس قسم کی مجسمہ سازی کے لیے مضبوط اعصاب، صبر اور کام کا ملکہ حاصل ہونے کی صورت میں کامیابی ملتی ہے، اس وجہ سے مواد کی درستگی اور اس پر قابو پانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
ابراہیم  کے مطابق اوسط کام میں لگ بھگ 20 گھنٹے لگتے ہیں۔ ملکہ نیفرٹیٹی اور توتنخمون کے مجسمے ان مشکل مجسموں میں شامل ہیں جو میں نے تراشے ہیں۔‘
 

شیئر: