عرب ممالک امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں، شاہ اردن اور اماراتی صدر کا بیان
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ خطے میں جاری ایرانی جارحیت عرب ممالک کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور دیگر اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ (فوٹو: عرب نیوز)
اردن اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے اپنے ممالک پر حالیہ ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے، اور اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ عرب ممالک نے نہ تو اس جنگ کا آغاز کیا اور نہ ہی وہ 28 فروری سے جاری امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہیں۔
اردن کی سرکاری نیوز ایجنسی کےمطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل اور دیگر عرب ممالک اس کے بجائے بحران کو قابو میں رکھنے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے سے روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب وہ پیر کے روز ابوظہبی میں ملاقات کی تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائی اور اس کے سلامتی اور استحکام پر سنگین اثرات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
امارات نیوز ایجنسی کے مطابق، انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری ایرانی جارحیت عرب ممالک کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور دیگر اصولوں کی خلاف ورزی ہے، اور یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
دونوں رہنماؤں نے فوجی کشیدگی کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا، اور سکیورٹی کو یقینی بنانے اور تناؤ کم کرنے کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دینے کی اہمیت اجاگر کی۔
