Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مُردوں کے سونے کے دانت چوری کرنے والا گورکن گرفتار

ملزم تجہیزوتکفین کے دوران مُردوں کا جائزہ لیتا اور بعد ازاں قبر کھود کر سونے کے دانت چوری کر لیتا (فوٹو: سوشل میڈیا)
جرمنی کے شہر وارزبرگ میں پولیس نے ایک ایسے گورکن کو گرفتار کیا ہے جو طویل عرصے تک مُردوں کو لوٹتا رہا اور رات کے وقت قبر کھود کر مُردوں کے سونے کے دانت نکال لیا کرتا تھا۔
پولیس کو اس گورکن کے گھرسے 11 سونے کے دانتوں کے علاوہ انگوٹھی اور کچھ دیگر زیورات بھی ملے ہیں۔
غیر ملکی ویب سائٹ کونیکسین بلاگ میں سنیچر کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وارزبرگ کے قریبی گاؤں کے کچھ افراد کو شبہ ہوا کہ ان کے مرنے والے عزیزوں کی قبروں کو کھول کر دوبارہ بند کیا گیا ہے جس کی پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس نے چند روز قبرستان کا جائزہ لیا جس سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ اس میں گورکن ملوث ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا جہاں سے تیس گرام سونے کی اشیا برآمد ہوئیں جن میں سونے کے 11 دانت بھی شامل تھے۔
پولیس نے گورکن کو حراست میں لے لیا۔ خیال یہی ہے کہ گورکن تجہیزوتکفین کے دوران مُردوں کو جانچ لیا کرتا تھا اور جن کے دانت سونے کے ہوتے، بعد میں قبر کھود کر انہیں نکال لیا کرتا۔

 


شہریوں کی شکایت کے بعد پولیس نے قبرستان کی نگرانی شروع کی (فوٹو: سوشل میڈیا)

اس کیس کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ دانتوں کی چوری کا یہ سلسلہ 2019 سے جاری تھا اور اس دوران 20 سے زائد مُردوں کی بے حرمتی کی گئی اور ان کی اشیا چرائی گئیں۔
پولیس کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن مُردوں کو لوٹا گیا ان میں سے بیشتر کافی عرصہ قبل دفن کیے گئے تھے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ اسی گورکن کا نشانہ بنے یا کوئی اور بھی اس کام میں ملوث ہے۔
دوسری جانب گرفتار کیے جانے والے گورکن نے چند ایک وارداتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ عادی چور نہیں ہے۔ وہ چرائے جانے والے سونے کے دانت فروخت نہیں کرتا تھا بلکہ دوستوں کو دکھانے کے لیے ایسا کیا کرتا تھا۔

شیئر: