Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں سال 2020 کے دوران سائبر کرائم میں پانچ گنا اضافہ

'سائبر کرائم ونگ میں سال 2020 میں کل 94,227 درخواستیں دائر کی گئیں (فوٹو: پِکسی ڈاٹ او آر جی)
کورونا لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں سائبر کرائمز میں بھی اضافہ ہوا اور سال 2020 میں گذشتہ سال کی نسبت پانچ گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال ادارے کے سائبر کرائم ونگ نے آن لائن جرائم کی ایک لاکھ کے قریب شکایات نمٹائیں جن میں مالی دھوکہ دہی، جنسی ہراسیت، سائبر سٹاکنگ اور غیر مجاز اکاؤنٹس تک رسائی سے متعلقہ درخواستیں شامل ہیں۔
'سائبر کرائم ونگ میں سال 2020 میں کل 94 ہزار 227 درخواستیں دائر کی گئیں جس کے نتیجے میں 22 گروہوں کے 621 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اس دوران ایف آئی اے نے 20 ہزار سے زائد الیکٹرانک آلات کو بھی ضبط کیا۔'

 

اس حوالے سے گذشتہ سال سائبر کرائم ونگ نے مالیاتی جرائم، خواتین کو بدنام کرنے اور ہراساں کرنے والے، چائلڈ پورنوگرافی اور ہائی پروفائل کیسز سے نمٹنے کے لیے خصوصی تحقیقات کیں۔
 ایف آئی اے کے یونٹس نے 9073 انکوائریوں کو کامیابی کے ساتھ حل کیا جو کہ پچھلے سال کی نسبت 50 فیصد زیادہ ہیں اور 374 کیسز کو انجام تک پہنچایا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق گذشتہ سال بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا گیا، اور اِسی سلسلے میں ملزموں کے خلاف 24 ایف آئی آرز درج کی گئیں اور 26 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔اس جرم میں ملوث تین بڑے گروہوں کو بھی پکڑا گیا۔
بین الاقوامی تعاون کے سلسلے میں انٹرپول، نیشنل کرائم بیور اور ایف بی آئی کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا گیا، اِسی سلسلے میں 214 درخواستیں موصول ہوئیں اور 191 درخواستوں کو نمٹا دیا گیا۔
 بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے فراڈ میں ملوث 22 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جس کے نتیجے میں 16 مقدمات اور 95 انکوائریاں درج کی گئیں جبکہ چالیس لاکھ روپے سے زیادہ رقم برآمد کی گئی۔

ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے گذشتہ سال مختلف جرائم میں ملوث 621 ملزمان کو گرفتار کیا (فوٹو: وکی میڈیا)

گذشتہ سال ادارے میں استعداد کار کو بڑھانے کے لیے افرادی قوت میں 400 نئے افراد کا اضافہ کیا گیا، اور چار سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹرز کے لیے نئی عمارتوں کو حاصل کیا گیا۔

سائبر قوانین کے تحت جرائم کی اقسام

پیکا قانون میں کل 24 شقیں ہیں جن میں سے سیکشن 10، سیکشن 21 اور سیکشن 22 ناقابل ضمانت ہیں۔ یاد رہے کہ سیکشن 10 سائبر دہشت گردی، سیکشن 21 کسی کی غیر اخلاقی تصاویر یا ویڈیو پھیلانے اور سیکشن 22 بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز بنانے اور پھیلانے سے متعلق ہے۔
پیکا کے تحت غیر قانونی سمز کی فروخت بھی قابل گرفتاری جرم ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے کمپیوٹر یا موبائل تک غیر قانونی رسائی بھی جرم ہے۔ دہشت گردی یا کالعدم تنظیموں کے حوالے سے جرائم کی تعریف یا بہتر بنا کر پیش کرنا بھی ایک بڑا جرم ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق گذشتہ سال بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا گیا (فوٹو: نیڈ پِکس)

نفرت پر مبنی تقاریر یا تحریریں بھی پیکا کے تحت قابل سزا جرم ہیں۔ الیکٹرانک فراڈ یا ردوبدل بھی اس قانون کے تحت جرم تصور کیا جاتا ہے۔
دوسروں کی شناخت جیسے بینک اکاؤنٹ نمبر، قومی شناختی کارڈ نمبر وغیرہ چوری کرنا اور انہیں غیر قانونی طور پر استعمال کرنا بھی سائبر کرائمز میں شمار ہوتا ہے۔
سائبر سٹاکنگ یعنی کسی کا انٹرنیٹ پر پیچھا کرنا، کسی کو فون یا نیٹ کے ذریعے اس کی مرضی کے بغیر بار بار میسج بھیج کر تنگ کرنا بھی پیکا کے تحت جرم ہے۔

شیئر: