Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دیکھ کر ڈیلیٹ کر دینا!

کچھ خواتین بھی پریشان ہیں کہ کہیں امریکہ والے کزن سے ’چیٹ‘ ہی نہ طشت از بام ہو جائے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
جب سے واٹس ایپ کی اس پالیسی کا اعلان ہوا ہے کہ وہ صارفین کا ڈیٹا شیئر کر سکتا ہے سارے معاشرے میں ایک سراسیمگی سی چھا گئی ہے۔ وہ ساسیں جو بہووں کے خلاف بیٹوں کو وٹس ایپ پر بھڑکاتی تھیں وہ الگ پریشان ہیں۔
وہ بہوئیں جو واٹس ایپ پر ساسوں کی شوہروں کو شکایتیں لگاتی تھیں، وہ الگ خوفزدہ ہیں۔ وہ بچے جو ماں باپ سے چھپ کر ناگفتہ بہ حرکتوں میں مصروف تھے ان پر خوف کا عالم طاری ہے۔
وہ نوجوان جو ’گڈ مارننگ جانو‘ کے پیغامات باقاعدگی سے بھیجتے تھے، ان پر الگ لرزہ طاری ہے۔ شادی شدہ مردوں کی حالت سب سے تشویش ناک ہے، وہ حضرات جو فون کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑتے تھے، اب اسی منحوس فون کو ہاتھ لگاتے ہی ان کی جان نکل جاتی ہے۔
کچھ خواتین بھی پریشان ہیں کہ کہیں امریکہ والے کزن سے ’چیٹ‘ ہی نہ طشت از بام ہو جائے۔ چھپ چھپ کر ڈیٹیں مارنے والے اب توبہ تائب پر آ چکے ہیں۔ استغفار اور نماز ِتوبہ پڑھ رہے ہیں۔ جن کے کان ہمیشہ وٹس ایپ کال پر لگے ہوتے تھے اب وہ خود "میوٹ " ہوچکے ہیں۔ 
واٹس ایپ کی گھٹنی بجنے سے پہلے جن چہروں پر رونق آ جاتی تھی، اب انھی پر رقت طاری ہو جاتی ہے ۔ ویڈیو کال کے شائق اب ہاتھ میں تسبیح لیے پھرتے ہیں اور اس موئے وٹس ایپ کے برباد ہونے کے وظیفے پڑھتے ہیں۔ 
واٹس ایپ پر بےباکی کے جوہر دکھانے والے جو کہا کرتے تھے "بس دیکھ کر ڈیلیٹ کردینا" انھیں کیا علم تھا کہ واٹس ایپ کا ڈیٹا کبھی ڈیلیٹ نہیں ہوتا، سب ریکارڈ جمع رہتا ہے اور جلد یا بدیر منظر ِعام پر لایا جا سکتا ہے۔ 
لگائی بجھائی کے شوقین خواتین و حضرات کی حالت دیدنی ہے۔ وہ فون کر کر کے پوچھ رہے ہیں کہ فون اگر توڑ دیا جائے تو ڈیٹا ڈیلیٹ ہو جاتا ہے؟ سم نکالنے سے ڈیٹا بھی نکل جاتا ہے نا ؟ اس خبر کے بعد شادی شدہ جوڑوں کی الفت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
متعدد شریف شادی شدہ حضرات یہ کہتے ہوئے بھی سنے گئے ہیں کہ" بھئی کچھ وقت بیوی بچوں کو بھی دینا چاہیے یہ کیا کہ بندہ ہر وقت فون میں ہی گھسا رہے۔" 
کثیف ویڈیوز دیکھنے اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے والے الگ طرح سے لرزہ براندام ہیں ۔ وہ جو گھر والی کے سر سے ڈوپٹہ ڈھلکنے پر آگ بگولا ہو جاتے تھے اب انہیں وہ بے حجاب اور بے حساب ویڈیوز یاد آ رہی ہیں۔ انگریزی فلموں کے چیختے ہوئے"خاموش" مناظر یاد آ رہے ہیں جو وہ بڑے شوق سے خود بھی دیکھتے اور شیئر کر کے دیگر شرفاء سے داد بھی وصول کرتے تھے۔ 
استاد مکرم جناب نذیر تبسم کا شعر اس موقع پر صادق آتا ہے 
طوفاں کا وہم ہے نہ سمندر کا خوف ہے 
مجھ میں چھپا ہوا میرے اندر کا خوف ہے 

کاروباری لوگ الگ فکر مند ہیں کہ جس کاروبار میں وہ ’ٹانکا‘ وٹس ایپ پر لگاتے تھے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

وہ جو واٹس ایپ کے گروپوں میں شیر بنے طاقتوروں کے خلاف چھپ چھپ کر مہم چلاتے تھے اب تائب ہو چکے ہیں۔ ہر میسج نپا تلا ، سہجا اور سمجھا ہوا بھیجتے ہیں۔ اب ان کے پیغامات  نیکی کی ترغیب اور رات سونے سے پہلے کی دعاؤں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ وہ جو پہلے شیر کی طرح ہر قوت سے بھڑ جانے کا دعوی کرتے تھے اب اس خبر کے بعد بکری بن گئے ہیں۔
ہر واٹس ایپ میسج میں اداروں کے احترام میں جھک جھک جاتے ہیں۔ اب شیر کی ایک دن کی زندگی والی مثال بھی نہیں دیتے ۔ بس "دنیا فانی ہے اور ہر چیز آنی جانی ہے" ٹائپ کے پیغامات ہی پر گزارا کر رہے ہیں۔ 
ایک بہت ہی شریف دوست کا فون آیا ۔ حال احوال کے بعد دبے لہجے میں پوچھنے لگے،" یہ ٹیلی گرام اور سگنل کا ڈیٹا بھی پکڑا جا سکتا ہے؟ "شرارتاً پوچھا،" یہ آپ کس لیے پوچھ رہے ہیں ؟" تو کہنے لگے،" ایک دوست کو معلومات چاہیے تھیں، بےچارا بیگم سے بہت ڈرتا ہے۔ "بیگم سے تو یہ صاحب خود بھی بہت ڈرتے تھے لیکن ہم نے اس موقع پر انھیں ٹوکنا مناسب نہیں سمجھا۔ 
کاروباری لوگ الگ فکر مند ہیں کہ جس کاروبار میں وہ "ٹانکا" وٹس ایپ پر لگاتے تھے اگر وہ راز فاش ہو گئے تو لال مرچ میں پسی ہوئی اینٹیں ، چائے کی پتی میں برادہ ، دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا کھیل کھل جائے گا۔ ادھر کا مال اُدھر کرنے والوں کو یہ فکر ہو رہی ہے کہ سارے کاروباری راز فاش ہوجائیں گے۔ 
واٹس ایپ ہر شخص کی خفیہ زندگی کا راز داں تھا، اب راز کھلنے کے خوف سے سب پریشان ہیں۔ سب کو اپنی اپنی فکر لگی ہوئی ہے۔ سب اپنے چھوٹے چھوٹے جرائم مٹانا چاہتے ہیں لیکن وٹس ایپ کی پالیسی تبدیل ہو چکی ہے۔ 
اب لوگ خوف کے مارے سہمے ہوئے منتظر ہیں کہ کس کی وڈیو پہلے منظرِ عام پر آتی ہے، کس کی بدنامی پہلے طشت از بام ہوتی ہے۔ اس سے پہلے جب واٹس ایپ کی یہ پالیسی نہیں تھی تب بھی کچھ ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں ،کبھی اس میں ہیرو کا کردار کوئی سیاستدان ادا کررہے ہوتے ہیں ،کبھی کوئی ماڈل چشم کشا ماڈلنگ کر رہی تھیں۔ 

اس ملک کے زیادہ تر لوگ شریف لوگ ہیں۔ شریف لوگوں کے خوف اور جرائم ایسے ہی معصوم ہوتے ہیں۔ جن پر وہ ساری عمر خوفزدہ رہتے ہیں (فوٹو: ٹوئٹر)

کبھی کسی جج کی وڈیو آ جاتی تھی ۔ کبھی کسی صحافی کی گرل فرینڈ کے ساتھ ڈیٹ کے مناظر وائرل ہوجاتے ہیں، کبھی یہ رتبہ کسی بزنس مین کے نصیب میں لکھا جاتا ہے۔ کبھی کسی بیوروکریٹ کی شبانہ مصروفیات واشگاف ہوتی ہیں ۔ جج ارشد ملک بھی تو اسی طرح کی ریکارڈ کی گئی ایک وڈیو کا شکار بنے ۔ لیکن ایسی قبیح وڈیوز کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ ویڈیوز ہمیشہ سویلینز کی ریلیز ہوتی ہیں۔ 
اس ملک کے زیادہ تر لوگ شریف لوگ ہیں۔ شریف لوگوں کے خوف اور جرائم ایسے ہی معصوم ہوتے ہیں۔ جن پر وہ ساری عمر خوفزدہ رہتے ہیں لیکن ایک اور طبقہ بھی ہے جس کے خوف اور خدشات اس سے کہیں بڑے ہوں گے۔
سوچیے کہ اگر کسی کے واٹس ایپ سے یہ ڈیٹا جاری ہو گیا کہ الیکشن کس طرح چرانے ہیں؟ کس طرح آرٹی ایس کو بٹھانا ہے؟ کس طرح میڈیا کو نکیل ڈالنی ہے؟ کس طرح سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانی ہیں؟ کس طرح ہر پروگرام سے پہلے اینکر کو ہدایات دینی ہیں؟ کس طرح چینی کے قیمت بڑھا کر اربوں کمانے ہیں؟
کس طرح آٹے کا بحران پیدا کرنا ہے؟ کس طرح فرقہ وارانہ فسادات کروانے ہیں؟ کس طرح عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال کر پیسے کمانے ہیں؟۔۔۔ تو کیا ہوگا؟ یہ ڈیٹا منظرِ عام پر آ گیا ہو گا؟ کیا یہ لوگ بھی پچھتائیں گے ؟ کیا یہ لوگ بھی منہ چھپائیں گے ؟ کیا یہ لوگ بھی تاسف کا اظہار کر یں گے؟ کہ اگرچہ انھوں نے میسج میں لکھ تو دیا تھا کہ دیکھ کر ڈیلیٹ کر دینا ؟ لیکن سنا ہے واٹس ایپ نے اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔ 

شیئر: