Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنوبی پنجاب: ’تلور کے شکار کے سبب علاقے کو ترقی ملی‘

ہوبار فاؤنڈیشن کے مطابق عرب ملکوں سے آنے والی اہم شخصیات کی جانب سے ہر سال فروری اور مارچ کے مہینوں کے دوران تلور آزاد کیے جاتے ہیں (فوٹو: ہوبارہ فاؤنڈیشن)
جنوبی پنجاب کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہر سال موسم سرما میں خلیجی شکاریوں کی تلور کے شکار کے لیے ان کے علاقے میں آمد سے ان کی معاشی حالت میں بہتری آتی ہے۔
تاہم جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پرندوں کی تعداد میں سالانہ اضافے کے کسی سروے کی عدم موجودگی کے باوجود ان کا شکار جاری ہے۔
عرب نیوز میں پیر کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق فطرت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم نے تلور کو خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔
تلور ایک نایاب پرندہ ہے جو مرغی کے سائز کا ہوتا ہے۔ اس کی دنیا میں کل تعداد 50 ہزار سے ایک لاکھ تک کے درمیان ہے۔ جزیرہ نماعرب میں یہ پرندہ تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی جانب سے سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان کو تلور کے شکار کے پرمٹس کے اجزا بند کر دینا چاہیے اور اس کے شکار پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
ورلڈ وائلڈلائف فنڈ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر ہونے والے سرویز کے بعد ہی محدود پیمانے پر پرندے کے شکار کی اجازت دی جائے۔
یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ سروے میں تمام متعلقہ فریقین کو شامل رکھا جائے اور پرندے کی تعداد اور اس میں ہوتے اضافے کا جائزہ لیا جائے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کے شاہی خاندان کے افراد تلور کے شکار کے لیے دسمبر سے فروری تک کے عرصے میں پاکستان آتےہیں۔
2019 میں امریکی میگزین دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شکار کے لیے ہر گروپ ایک لاکھ ڈالر ادا کرتا ہے، اسی طرح دس روز کے لیے بنایا جانے والا پرمٹ ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی کے بعد جاری  ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس پرمٹ کے مطابق اس پر سو پرندوں کے شکار کی اجازت ہوتی ہے۔
شکاریوں کی طرف سے لائے جانے ہر بازوں کے لیے فی باز ایک ہزار ڈالر وصول کیے جاتے ہیں۔
مقامی لوگوں کو کہنا ہے کہ شکاری جن علاقوں میں عارضی طور پر رہائش رکھتے ہیں، ان کی وجہ سے ان دورافتادہ علاقوں کی ترقی میں مدد ملی ہے۔
بقول ان کے ان علاقوں میں تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے۔

مقامی لوگوں کے مطابق جن علاقوں میں شکاری عارضی طور پر رہائش رکھتے ہیں وہاں تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے (فوٹو: ہوبارہ فاؤنڈیشن)

علاوہ ازیں ہوبار فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان (ایچ ایف آئی پی) کے حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ محدود پیمانے پر ہونے والا شکار تلور کی نسل کو بچانے کے لیے بہترین راستہ ہے۔
رحیم یار خان کے رہائشی علی احمد نے عرب نیوز کو بتایا کہ ان کے خاندان کی تین نسلوں میں سے کسی نے بھی سکول نہیں دیکھا تھا لیکن ان کے بچے سکول میں پڑھنے جاتے ہیں۔
ان کے مطابق ’ہم مٹی کی جھونپڑیوں میں شدید گرمی اور سردی میں رہتے تھے مگر اب ہم ایک ایسی کالونی میں رہتے ہیں جو تمام سہولتیں دستیاب ہیں‘
علی احمد نے یہ بھی بتایا کہ متحدہ عرب امارات سے شکار کے لیے آنے والوں شیخوں نے ہمارے علاقے میں کئی ترقیاتی کام کروائے جس سے ہماری زندگیم یں آسانی آئی ہے۔
نینا کماری نامی مقامی خاتون نے فون پر عرب نیوز کو بتایا کہ انہوں نے اپنی بیمار بارہ سالہ بیٹی کو شیخ زید میڈیکل کمپلیکس رحیم یار خان میں داخل کروایا جو اماراتی حکومت کا ہی بنایا ہوا ہسپتال ہے۔
ان کے مطابق اس ہسپتال میں کھانا اور ادویات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
عرب نیوز کے ساتھ گفتگو میں ہوبار فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان کے حکام نے بھی اس امر سے اتفاق کیا کہ عرب ممالک کی اہم شخصیات کی جانب سے ان علاقوں میں آمد سے تلور کے شکار کو تحفظ ملا ہے ایسا نہ ہوتا تو پرندے کی نسل خطرات کا شکار ہو جاتی۔
ہوبار فاؤنڈیشن کے عہدیدار لیفٹیننٹ کرنل رانا کمال الدین کے مطابق عرب ملکوں سے آنے والی اہم شخصیات کی جانب سے ہر سال فروری اور مارچ کے مہینوں کے دوران تلور آزاد کیے جاتے ہیں۔
کرنل رانا کمال الدین نے بتایا ’عرب ممالک سے آنے والے شکار کے لیے پرندے ساتھ لاتے ہیں، جتنے پرندے چھوڑے جاتے ہیں ان کی تعداد شکار ہونے والے پرندوں سے زیادہ ہوتی ہے‘

شیئر: