Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

واہگہ ہیریٹیج کوریڈور، ’ایک مکمل سیاحتی تجربہ‘

تصور کریں کہ آپ لاہور کی مصروف شاہراہوں سے نکل کر ایک ایسی سڑک پر رواں دواں ہیں جو نہ صرف آپ کو کم وقت میں واہگہ بارڈر تک پہنچاتی ہے بلکہ راستے میں پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کی جھلک بھی دکھاتی ہے۔ یہی واہگہ ہیریٹیج کوریڈور ہے، پنجاب کا پہلا باقاعدہ سیاحتی کوریڈور جو اب مکمل ہو چکا ہے اور مقامی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ واہگہ بارڈر پر پریڈ ارینا کو بھی اپ گریڈ کر دیا گیا ہے جس میں 25 ہزار افراد کے بیک وقت بیٹھنے کی گنجائش ہے اس سے پہلے صرف سات ہزار لوگ ایک وقت میں پریڈ دیکھ سکتے تھے۔
جمعرات کو پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس ایرینا کا افتتاح کیا۔ ارینا میں تحریک آزادی سے آج تک پاکستان کی تاریخ و ثقافت سے متعلق پاکستان میوزیم بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ باب آزادی کے مقام پر شاہی قلعے کی طرز پر عالمگیری دروازہ بھی نصب کیا گیا ہے۔
قریباً سات ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ صرف ٹریفک کی بہتری تک محدود نہیں بلکہ اسے اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ واہگہ بارڈر پر ہونے والی مشہور جھنڈا اتارنے کی تقریب تک کا سفر خود ایک یادگار تجربہ بن جائے۔
یہ کوریڈور لاہور کے رنگ روڑ پر  قائداعظم انٹرچینج سے شروع ہو کر واہگہ بارڈر کی زیرو لائن تک قریباً 13 کلومیٹر طویل ہے۔ اس کی تعمیر کا آغاز 2025 کے اوائل میں کیا گیا۔ منصوبے کا بنیادی مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان آنے والے سیاحوں کو سرحد تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک منظم، محفوظ اور ثقافتی طور پر بھرپور راستہ فراہم کیا جائے جو ملک کے بارے میں پہلا تاثر مضبوط بنائے۔
پنجاب کے وزیر مواصلات صہیب بھرت نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’واہگہ ہیریٹیج کوریڈور کو محض ایک سڑک کے بجائے ایک مکمل سیاحتی تجربہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مرکزی شاہراہ کو کشادہ رکھا گیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو، جبکہ دونوں اطراف سروس روڈز تعمیر کیے گئے ہیں جو مقامی آمدورفت اور پیدل چلنے والوں کے لیے سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس منصوبہ بندی سے نہ صرف ٹریفک جام میں کمی آئی ہے بلکہ سفر بھی زیادہ محفوظ اور آرام دہ ہو گیا ہے۔‘
انہوں نئے بتایا کہ ’بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے جدید ڈرین ایج سسٹم نصب کیا گیا ہے تاکہ واٹر لاگنگ جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پام ٹری، گرین بیلٹس اور لینڈ سکیپنگ کے ذریعے راستے کو سرسبز اور خوشنما بنایا گیا ہے، جو ماحولیاتی بہتری کے ساتھ ساتھ بصری حسن میں بھی اضافہ کرتا ہے۔‘

کوریڈور کے اختتام پر بابِ آزادی کے علاقے میں بھی نمایاں بہتری کی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

کوریڈور کی ایک نمایاں خصوصیت اس کے ثقافتی اور آرائشی عناصر ہیں۔ طویل آرائشی دیواروں پر پاکستان کی تاریخ، قومی ہیروز اور ثقافتی مناظر کی عکاسی کرنے والے میورلز اور پورٹریٹس آویزاں کیے گئے ہیں، جو سفر کے دوران ایک زندہ تاریخی بیانیہ پیش کرتے ہیں۔ سائیکلنگ ٹریک بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ماحول دوست سفری رجحانات کو فروغ دیا جا سکے۔
رات کے وقت سکیورٹی اور روشنی کے لیے سولر پاورڈ سٹریٹ لائٹس نصب کی گئی ہیں، جو توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ راستے کو محفوظ بناتی ہیں۔ ان انتظامات کی وجہ سے یہ کوریڈور شام اور رات کے اوقات میں بھی سیاحوں کے لیے پُرکشش اور قابلِ استعمال رہتا ہے۔
کوریڈور کے اختتام پر بابِ آزادی کے علاقے میں بھی نمایاں بہتری کی گئی ہے۔ یہاں فوجی تاریخ سے متعلق نمائشوں پر مشتمل ایک نیا میوزیم قائم کیا گیا ہے، جہاں مختلف عسکری سازوسامان عوام کی دلچسپی کے لیے رکھا گیا ہے۔ بلند قومی پرچم اور اپ گریڈ شدہ بارڈر انفراسٹرکچر اس مقام کو قومی وقار اور یادگار حیثیت عطا کرتا ہے۔
صہیب بھرت کہتے ہیں کہ ’واہگہ بارڈر پہلے ہی روزانہ ہزاروں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، خاص طور پر جھنڈا اتارنے کی تقریب کے باعث۔ نئے کوریڈور کی بدولت اب اس سفر کو زیادہ منظم، خوبصورت اور سہل بنا دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی سیاحوں اور سکھ یاتریوں سمیت مقامی لوگوں کو بھی اس سے براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور ٹریفک کے دیرینہ مسائل میں نمایاں کمی آئی ہے۔‘

مستقبل میں کوریڈور کے ساتھ مزید ثقافتی مراکز، سہولتی مقامات اور ریسٹ ایریاز شامل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے (فوٹو: سکرین گریب)

محمد آصف باٹا پور کے رہائشی ہیں اور ان کا گاؤں اس کوریڈور کے دونوں طرف ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’زیادہ سیاح جو واہگہ کی تقریب دیکھنے آتے تھے ان کے لیے یہ تھکا دینے والا سفر تھا۔ اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے بہت وقت لگتا تھا، لیکن اب یہ پورا سفر ہی ایک خوشگوار یاد بن گیا ہے۔ راستے کی خوبصورتی اور نظم و ضبط اب متاثر کن ہے۔‘
اگرچہ منصوبے کی لاگت ابتدائی تخمینوں سے کچھ زیادہ رہی، تاہم حکام کے مطابق اس کے فوائد اور طویل المدتی اثرات اس لاگت کو جواز فراہم کرتے ہیں۔ مستقبل میں کوریڈور کے ساتھ مزید ثقافتی مراکز، سہولتی مقامات اور ریسٹ ایریاز شامل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ لاہور کینال میں فلوٹنگ ہوٹل بھی اسی علاقے میں جلو کے قریب بنایا جا رہا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق جوائنٹ چیک پوسٹ واہگہ پر نصب قومی پرچم 115 میٹر بلند تھا اب اس کی انچائی 139 میٹر کر دی گئی ہے۔ جو کہ ایشیا کا ساتواں اور جنوبی ایشیا کا بلند ترین پرچم ہے۔

 

شیئر: