امریکہ کے ایچ۔ون بی ورک ویزا کے انتخابی نظام میں تبدیلی، پاکستانی کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
امریکہ کے ایچ۔ون بی ورک ویزا کے انتخابی نظام میں تبدیلی، پاکستانی کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
ہفتہ 3 جنوری 2026 5:24
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
امریکی محکمہ داخلی سلامتی کے مطابق موجودہ نظام میں درخواستوں کی تعداد ویزا کی مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کے محکمہ داخلی سلامتی کی جانب سے ایچ۔ون بی ورک ویزا کے انتخابی نظام میں متعارف کرائی جانے والی بڑی تبدیلی کو پاکستانی ہنر مند افراد کے لیے نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ اس فیصلے کے براہِ راست اثرات اُن ہزاروں پاکستانی پروفیشنلز پر پڑیں گے جو ہر برس امریکی کمپنیوں میں ملازمت کے لیے ایچ۔ون بی ویزا کے منتظر ہوتے ہیں۔
نئے ضابطے کے تحت اب ایچ۔ون بی ویزا کے حصول کا انحصار محض قرعہ اندازی پر نہیں رہے گا بلکہ زیادہ مہارت اور زیادہ تنخواہ والی نوکریوں کے لیے درخواست دینے والے امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی۔ یہ حتمی ضابطہ 27 فروری 2026 سے نافذ ہ وگا اور مالی سال 2027 کے ایچ۔ون بی رجسٹریشن سیزن سے اس پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا، جسے ماہرین پاکستانی سکلڈ ورکرز کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان سے ہر برس آئی ٹی ماہرین، سافٹ ویئر انجینیئرز، ڈیٹا سائنٹسٹس، سائبر سکیورٹی ایکسپرٹس، ڈاکٹرز، انجینیئرز اور دیگر تکنیکی پیشہ ور افراد بڑی تعداد میں امریکی ایچ۔ون بی ویزا کے لیے درخواستیں دیتے ہیں، تاہم اب تک یہ عمل مکمل طور پر قسمت کے سہارے رہا ہے۔
امریکی محکمہ داخلی سلامتی کے مطابق موجودہ نظام میں درخواستوں کی تعداد ویزا کی مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے، جس کے باعث یو ایس سی آئی ایس کو مکمل طور پر اتفاقی قرعہ اندازی کرنا پڑتی ہے۔ اس طریقہ کار میں پاکستانی امیدوار، چاہے وہ اعلیٰ مہارت اور بین الاقوامی تجربہ رکھتے ہوں یا ابتدائی سطح کے ہوں، سب کو یکساں سمجھا جاتا رہا ہے، جس پر طویل عرصے سے تنقید کی جا رہی تھی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ نظام ایسے آجروں کے لیے فائدہ مند بن گیا جو نسبتاً کم اجرت پر غیرملکی ورکرز کی خدمات حاصل کرنا چاہتے تھے، جس سے ایچ۔ون بی پروگرام کا اصل مقصد متاثر ہوا۔ پاکستانی تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا نقصان اُن ہنر مند افراد کو ہوتا رہا جو عالمی معیار کی مہارت رکھتے تھے مگر قرعہ اندازی میں منتخب نہ ہو پاتے تھے، جبکہ بعض کم اجرتی پوزیشنز کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں جمع کروا دی جاتی تھیں۔ نیا ضابطہ اس عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے ویزا کی تقسیم کو براہِ راست اجرت اور مہارت سے جوڑنے کی کوشش ہے۔
نظرثانی شدہ نظام کے تحت اب ایچ۔ون بی کے لیے دی جانے والی ہر درخواست کو امریکی محکمہ محنت کے ڈیٹا کی بنیاد پر جانچا جائے گا۔ پاکستانی امیدواروں کے لیے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر کسی امریکی کمپنی کی جانب سے انہیں زیادہ تنخواہ اور اعلیٰ سطح کی پوزیشن کی پیشکش کی جاتی ہے تو ان کے منتخب ہونے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جائیں گے۔ نئی پالیسی کے مطابق زیادہ اجرت والی سطح پر آنے والی درخواستیں انتخابی پول میں کئی مرتبہ شامل کی جائیں گی، جبکہ کم اجرت والی سطح کی درخواستیں کم مرتبہ شامل ہوں گی، یوں انتخاب کا عمل اب مہارت اور معاوضے کے مطابق وزن رکھے گا، نہ کہ محض اتفاق پر مبنی ہو گا۔
پاکستان سے ہر برس آئی ٹی ماہرین، سافٹ ویئر انجینیئرز، ڈیٹا سائنٹسٹس اور سائبر سکیورٹی ایکسپرٹس ایچ۔ون بی ویزا کے لیے درخواستیں دیتے ہیں۔ (فائل فوٹو: ٹین ٹرسٹ نیوز)
امریکی محکمہ داخلی سلامتی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہر امیدوار کو سالانہ ویزا حد میں صرف ایک بار شمار کیا جائے گا، چاہے اس کے لیے ایک سے زائد امریکی آجر درخواست جمع کروائیں۔ اس اقدام کا مقصد اُن کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہے جو ایک ہی امیدوار کے لیے درجنوں رجسٹریشنز جمع کروا کر قرعہ اندازی کے امکانات بڑھا دیتی تھیں۔
ماہرین کے مطابق اس تبدیلی سے پاکستانی امیدواروں کے لیے مقابلہ زیادہ شفاف ہو جائے گا اور وہ افراد فائدے میں رہیں گے جن کی مہارت واقعی امریکی مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہے۔
امریکی محکمہ داخلی سلامتی کا موقف ہے کہ یہ اصلاحات نہ صرف امریکی ورکرز کی اجرت کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں بلکہ عالمی سطح پر اعلیٰ مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد اور سکلڈ ورکرز، کے لیے بھی بہتر مواقع پیدا کریں گی۔
حکام کے مطابق یہ نظام اُن آئی ٹی اور انجینیئرنگ گریجویٹس کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جو اعلیٰ تنخواہ والی پوزیشنز کے لیے منتخب ہو رہے ہیں، جبکہ ابتدائی سطح کے امیدواروں کے لیے بھی راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔
امریکی محکمہ داخلی سلامتی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہر امیدوار کو سالانہ ویزا حد میں صرف ایک بار شمار کیا جائے گا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
ستمبر 2025 میں جب اس ضابطے کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے پیش کیا گیا تو اس پر عالمی سطح پر شدید بحث ہوئی۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے چھوٹی کمپنیوں، سٹارٹ اپس اور کم اجرت والے شعبوں میں کام کرنے والے امیدوار متاثر ہوں گے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نظام کو متوازن رکھا گیا ہے اور کسی ایک طبقے کو مکمل طور پر باہر نہیں کیا جا رہا۔
پاکستانی امیگریشن ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی پاکستانی نوجوانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی مہارت بڑھانے، بہتر تنخواہوں پر فوکس کرنے اور عالمی معیار کے مطابق خود کو تیار کرنے کی ترغیب دے گی۔