’دھوم فلم سے ڈکیتی کا آئیڈیا ملا‘، وہ جرائم جو فلموں سے متاثر ہو کر کیے گئے
’دھوم فلم سے ڈکیتی کا آئیڈیا ملا‘، وہ جرائم جو فلموں سے متاثر ہو کر کیے گئے
اتوار 18 جنوری 2026 5:53
کہا جاتا ہے کہ 1994 میں چھپنے والے ٹام کلینسی کے ناول میں نائن الیون طرز کے حملے کا ذکر تھا (فوٹو: روئٹرز)
’ناولز اور فلمیں معاشرے کا عکس ہوتی ہیں۔‘ ماہرین کا یہ قول اپنی جگہ مگر جب اسی عکس کا عکس معاشرے میں حقیقی طور پر جھلکنا شروع ہوا تو ایک نئی بحث چھڑ گئی جو اب بھی نتیجے سے خاصی دور لگ رہی ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران ایسے واقعات خصوصاً جرائم ہوئے جن کو صرف خیالی طور پر کہانیوں کا موضوع بنایا گیا تھا اور ان میں نائن الیون بھی شامل ہے۔
ٹائم میگزین کے مطابق ایسی ہی ایک کوشش کا ذکر امریکی مںصف ٹام لیو کلینسی نے اپنے ناول ’ڈیٹ آف آنر‘ میں کیا تھا جو 1994 میں چھپا اور اس کے چند برس بعد نائن الیون ہوا۔
امریکہ اور جاپان میں فوجی اور معاشی کشیدگی کے تناظر میں لکھے گئے ناول میں ایسا افسانوی منظر دکھایا گیا تھا جس میں ایک موقع پر جاپان ایئر کا پائلٹ اپنے بھائی اور بیٹے کی موت کا بدلہ لینے کے لیے جہاز کیپٹل ہل کے اوپر گرا دیتا ہے۔
نائن الیون کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ حملوں کا خیال اسی ناول سے لیا گیا اور اس کے منصنف کو سوال و جواب کا سامنا بھی کرنا پڑا تاہم ان کا اصرار رہا کہ وہ محض ایک افسانوی کہانی تھی۔
فلم ’پشپا‘ اور سمگلنگ کے نئے طریقے
این ڈی ٹی وی کے مطابق 27 جولائی 2023 کو انڈیا کے شہر حیدرآباد میں ایک ایسی گینگ کو پکڑا گیا جو گانجے کی سمگلنگ کے لیے نئے طریقے اختیار کر رہی تھی، تفتیش کے دوران بتایا گیا کہ انڈین فلم ’پشپا‘ سے متاثر ہو کر سمگلنگ شروع کی تھی اور ٹرک کے نیچے ایک الگ خانہ بنا کر سینکڑوں کلوگرام گانجا سمگل کیا جاتا رہا۔
پکڑے گئے ملزموں نے پولیس کو بتایا کہ سمگلنگ کا نیا طریقہ فلم ’پشپا‘ سے سیکھا تھا (فوٹو: انڈیا ٹوڈے)
دھوم مچا دے دھوم
30 ستمبر 2007 میں انڈیا کی سب سے بڑی ڈکیتی ریاست کیرالہ میں ہوئی، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔
چور دیہاتی علاقے میں بنے ایک بینک سے 80 کلو سونا اور 50 لاکھ روپے اڑانے میں کامیاب رہے۔
دو مہینے کی تحقیقات کے بعد جب ملزموں کو پکڑا گیا تو انہوں نے ایک حیران کن بات بتائی۔
چوروں کے سرغنہ نے بتایا کہ اس ڈکیتی کا خیال فلم ’دھوم‘ دیکھ کر آیا تھا۔
اس وقت تک جان ابراہم کی فلم ’دھوم‘ اور ہریتک روشن کی ’دھوم ٹو‘ ریلیز ہو چکی تھیں۔
دونوں فلموں کا موضوع ہی چوری تھا اور چوری کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ویسا ہی فلم میں دکھایا گیا تھا۔
ملزم فلم’دھوم‘ میں دکھائے گئے طریقے کو استعمال کرتے ہوئے 80 کلو سونا اور 50 لاکھ روپے لے گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
فلمی منظر میں نقب زن ایک بینک کے گراؤنڈ فلور میں سوراخ کرتے ہیں اور نئے سال کی تقریب کے دوران قیمتی سامان سامان لے کر فرار ہو جاتے ہیں۔
’بنٹی اور ببلی نے متاثر کیا‘
اس فلم کے ہیرو ہیروئن ٹھگ ہوتے ہیں، جس میں امیتابھ بچن، ابھشیک بچن اور ایشوریا رائے بچن نے کا کام کیا۔ اس فلم سے دہلی کا ایک جوڑا کچھ زیادہ ہی متاثر ہوا اور لوگوں کو لوٹنا شروع کیا ایک بار اسی انداز میں ایک شہری کو نشانہ بنایا جیسا فلم میں دکھایا گیا تھا، جوڑے نے ایک شخص سے لفٹ لی اور ایک جگہ وہ کچھ خریدنے کے لیے اترا تو گاڑی دوڑا لی جس میں اس کا لیپ ٹاپ بھی تھا۔
بعدازاں گرفتار ہونے والے سندیپ منا اور رینا نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کو لوگوں کو لوٹنے کا خیال فلم بنٹی اور ببلی دیکھ کر آیا تھا۔
دہلی کا جوڑا فلم ’بنٹی اور ببلی‘ سے متاثر ہو کر ٹھگ بنا (فوٹو: بالی وڈ تماشا)
ہالی وڈ فلمیں
ایسا نہیں کہ جرائم کے آئیڈیاز صرف بالی وڈ فلموں سے ہی لیے گئے بلکہ اس کی نسبت زیادہ انسپیریشن ہالی وڈ فلموں سے دکھائی دیتی ہے۔
انگریزی ویب سائٹ لسٹورس میں چند ایسی ہالی وڈ فلموں کا تذکرہ ملتا ہے۔
سکریم، طنزیہ جملے اور موت
جب 1996 میں فلم ’سکریم‘ ریلیز ہوئی تو کسی کے وہم میں بھی نہیں کہ کوئی نقاب پوش قاتل حقیقی زندگی میں بھی کسی کو چھرا گھونپنے سے قبل خوفناک انداز میں طنزیہ جملے بھی کس سکتا ہے، مگر بعدازاں ایسے کئی واقعات ہوئے۔
1998 میں 16 سالہ لڑکا اپنے ایک دوست کو ویران علاقے میں لے گیا اور اچانک ویسا ہی ماسک پہن لیا جیسا فلم میں دکھایا گیا تھا اس کے بعد اسی انداز میں چُھرے سے 40 وار کیے جیسا فلم میں دکھایا گیا تھا جبکہ اسی انداز میں ہنسنے اور طنز کے شواہد بھی ملے۔
اسی طرح ’سکریم‘ سے متاثر ہونے والے کیلیفورنیا کے دو ٹین ایجر کزن ماریو اور سیموئل نے دونوں میں سے ایک کی والدہ کے سامنے فلم کی طرح کے قاتل بننے کا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے منع کیا، جس پر انہیں چھری کے 45 وار کر کے قتل کر دیا،جن کو بعدازاں فلم کی طرح کا ماسک خریدتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
1996 میں ریلیز ہونے والی فلم ’سکریم‘ قتل و غارت کے مناظر سے بھرپور تھی (فوٹو: انٹرٹیمنٹ بیہائنڈ)
اسی طرح 2006 میں دو ٹین ایجرز کو قتل کرنے سے قبل فلم سا ماحول بھی بنایا تھا اور لائٹ بند کر کے ہارر موویز کی طرح لڑکی کو 30 بار چھرا گھونپا تھا، بعد میں پولیس کو ان کی ایک ٹیپ بھی ملی تھی جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ فلم ’سکریم‘ کی طرح قتل کرنے کا بہت مزہ آیا۔
ڈیکسٹر کِلر، ’افسوس مزید قتل نہیں کر سکا‘
2010 میں نشر ہونے والی اس ٹی وی سیریز میں ایک شخص ان مجرموں کو قتل کرتا ہے جو کسی طرح قانون کی گرفت سے بچ نکلتے تھے۔
اس سے متاثر ہونے والے کینیڈین شہری مارک ٹویچل نے بھی یہی کچھ شروع کیا۔ اس نے اپنے گیراج میں ’کِل روم‘ بنایا اور سیریز میں دکھائے گئے منظر کی طرح ان پر پلاسٹک چڑھا رکھا تھا، جہاں وہ جانی ایلٹنجر کو لے گیا اور قتل کر کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔
پکڑے جانے پر مارک نے پولیس کو بتایا کہ وہ ڈیکسٹر سے متاثر تھا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسے مزید قتل کرنے کا موقع نہیں ملا۔
2010 کی ٹی وی سیریز ’ڈیکسٹر کِلر‘ کے بعد اسی طرز میں قتل کے واقعات ہوئے (فوٹو: ریئر گیلری)
فائٹ کلب، جب طنز کو نہیں سمجھا گیا
1999 میں بننے والی یہ فلم چک پلانیوک کے ناول پر مبنی تھی، یہ ایک گہرے طنز پر مشتمل تھی جس میں انارکی، تباہی اور کارپوریٹ دنیا کے خلاف بغاوت دکھائی گئی، تاہم بعض لوگوں نے اس کا ظاہری مطلب لیا اور جرائم اور دہشت گردی کی زندگی کی طرف گئے۔
اس کے بعد سامنے آنے والے کئی واقعات میں سے ایک یہ تھا کہ 17 سالہ کائل شا نے نیویارک سٹی میں سٹاربکس پر حملے کی کوشش کی، اس نے فلم میں دکھائے گئے واقعات کی طرح اپنا خفیہ فائٹ کلب بنایا، اگرچہ اس کا نصب کردہ بم بڑا نقصان نہ کر سکا تاہم جب اسے پکڑا گیا تو اس کا اصرار تھا کہ وہ فلم کے کردار ٹائلر ڈورڈن کی طرح کارپوریٹ کلچر کے خلاف بیان دینا چاہتا ہے۔
کچھ لوگ فلم ’فائٹ کلب‘ میں چھپے طنز کو سمجھنے کے بجائے پرتشدد کارروائیوں کی طرف چلے گئے تھے (فوٹو: لسٹورس)
بریکنگ بیڈ، منشیات کی تیاری
اس ٹی وی سیریز میں ایک کیمسٹری کے ٹیچر کو دکھایا گیا جو لیبارٹری میں ایک ممنوعہ اور نشہ آور کیمیکل میتھامفیٹامائن بناتا ہے اور بہت بڑا ڈرگ لارڈ بن جاتا ہے۔
2013 میں مونٹانا میں ایک ایسے سکول ٹیچر کو پکڑا گیا جس نے اپنے گھر میں لیبارٹری بنا رکھی تھی اور یہی دوا بنانے کی کوشش کر رہا تھا، اسی طرح نیویارک میں ایک ایسے پروفیسر کو گرفتار کیا گیا جو یونیورسٹی کی لیبارٹری میں میتھامفیٹامائن بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ گرفتاری کے بعد دونوں کا کہنا تھا کہ انہیں یہ خیال بریکنگ بیڈ سے آیا تھا۔ اسی طرح ایک شخص نے اپنے مالک مکان کو قتل کر کے لاش تیزاب میں تحلیل کرنے کی کوشش کی تھی اور ایسا ایک منظر ٹی وی سیریز کی قسط میں دکھایا گیا تھا۔
2012 میں سنیما میں 12 افراد کو مارنے والے نے پکڑے جانے پر اپنا تعارف ’دی جوکر‘ کے طور پر کرایا تھا (فوٹو: اے پی)
’آئی ایم دی جوکر‘
اسی طرح 2012 میں جیمز ہولمیس نامی شخص نے کولوراڈو کے اورورا سیمنا میں گھس کر فائرنگ شروع کر دی تھی جس سے 12 افراد ہلاک ہوئے۔ اس نے اپنے بال مشہور فلم ’جوکر‘ کے کردار کی طرح رنگے ہوئے تھے اور پولیس نے اس کا نام پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ ’دی جوکر ہے۔‘