این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ گانا جو تقریباً پانچ دہائیاں قبل ریکارڈ کیا گیا تھا، اب ونائل ریکارڈز یا ریڈیو کے بجائے انڈین نوجوانوں کے سمارٹ فونز پر راج کر رہا ہے۔
الگورتھم اور مختصر ویڈیوز کے اس دور میں جہاں رشتے بہت پیچیدہ اور بے یقینی کا شکار ہیں، نور جہاں کی آواز اور اس گیت کے گہرے لفظوں نے ایک نئی نسل کے دل جیت لیے ہیں۔
اس گانے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسٹاگرام پر محض 43 سیکنڈ کے ایک کلپ پر ایک لاکھ سے زیادہ ریلز بن چکی ہیں۔
’پٹیالہ محفل‘ نامی ایک گروپ کی جانب سے اس گانے کی ویڈیو پوسٹ کیے جانے کے بعد اسے کروڑوں بار دیکھا گیا جس نے اس پرانے شاہکار کو دوبارہ زندہ کر دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کے نوجوان اس گانے کو اپنی جدید زندگی اور ’ڈیٹنگ‘ کے مسائل سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
ایک انڈین انفلوئنسر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’نور جہاں جی نے ’لو بومبنگ‘ اور ’گھوسٹنگ‘ جیسے الفاظ کی بہت پہلے ہی وضاحت کر دی تھی۔‘
گانے کے بول ’سانوں نہر والے پل تے بلا کے، تے خورے ماہی کتھے رہ گیا‘ (ہمیں نہر والے پل پر بلا کر نہ جانے محبوب کہاں رہ گیا) آج کے دور کے اس المیے کی عکاسی کرتے ہیں جہاں کوئی میسج کا جواب نہیں دیتا یا وعدہ کر کے غائب ہو جاتا ہے۔
نوجوانوں کے لیے یہ گانا صرف موسیقی نہیں بلکہ ایک خاموش اور ٹھہرا ہوا جذبہ ہے۔ اس گانے میں موجود بے بسی اور انتظار کی کیفیت کو جنریشن زی اپنی ’سچویشن شپس‘ اور ادھورے جذبوں کا عکس قرار دے رہی ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یہ گانا پہلی مرتبہ 14 ستمبر 1973 کو ریلیز ہونے والی پاکستانی پنجابی فلم ’دکھ سجناں دے‘ میں شامل کیا گیا تھا۔
سلیم اقبال کی موسیقی اور رؤف شیخ کے لکھے ہوئے یہ بول پنجاب کی ثقافت، دیہی مناظر اور چھپ کر ملنے والے عاشقوں کی کہانی بیان کرتے ہیں۔
نہر کا پل محض ایک جگہ نہیں بلکہ انتظار اور امید کا ایک استعارہ ہے۔
بعدازاں یہ میڈم نور جہاں کے البم ’سیونی میرا ماہی‘ میں بھی شامل ہوا جو ان کی وفات کے ایک سال بعد ریلیز ہوا تھا۔
اس گانے کی خاص بات اس کا خالص پنجابی لہجہ ہے جو اسے روایتی اردو غزلوں سے منفرد بناتا ہے۔
پنجاب کا یہ ثقافتی پس منظر سرحد کے دونوں طرف بسنے والے لوگوں کے لیے یکساں کشش رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ جغرافیائی حدود کو عبور کر کے انڈین نوجوانوں کے دلوں میں گھر کر گیا ہے۔
اللہ وسائی سے نور جہاں تک
ملکہ ترنم میڈم نور جہاں کی شخصیت اور آواز اس گانے کی روح ہے۔ سنہ 1926 میں قصور میں اللہ وسائی کے نام سے پیدا ہونے والی اس بچی نے محض چھبرس کی عمر سے موسیقی کا سفر شروع کیا۔
تقسیمِ ہند سے قبل انہوں نے بمبئی (اب ممبئی) اور کلکتے میں اپنی اداکاری اور گلوکاری کا لوہا منوایا۔ ’خاندان‘، ’زینت‘ اور ’انمول گھڑی‘ جیسی فلموں نے انہیں برصغیر کا سٹار بنا دیا تھا۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئیں لیکن انڈیا سے ان کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹا۔
سنہ 1982 میں جب وہ انڈیا گئیں تو اندرا گاندھی، دلیپ کمار اور لتا منگیشکر جیسی ہستیوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔
آج کی انڈین نسل شاید ان کی پوری تاریخ سے واقف نہ ہو لیکن ان کی آواز میں موجود سچائی اور کرب کو وہ بخوبی محسوس کر رہے ہیں۔
’سانوں نہر والے پل تے بلا کے‘ محض ایک ٹرینڈ نہیں ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سچی موسیقی اور فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور وہ ہر دور میں، ہر نسل کے لیے اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ چاہے الگورتھم بدل جائیں یا سوشل میڈیا کے رجحانات، ایسے شاہکار ہمیشہ کسی نہ کسی بہانے واپس لوٹ آتے ہیں۔