20 ویں صدی کا لاہور ادبی، سیاسی، صحافتی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز تو تھا ہی بلکہ پنجاب ہی نہیں بلکہ غیرمنقسم ہندوستان میں بھی انگریز سامراج کے خلاف بغاوت کا مرکز تھا۔ ان حالات میں دو بیدی نمایاں ہوئے۔
ادب میں تو ہم راجندر سنگھ بیدی کو اردو زبان کے ایک بے مثل افسانہ نگار کے طور پر جانتے ہی ہیں کہ انہوں نے جس طرح دیہی ماحول کی منظرکشی کی، شاید ہی کوئی دوسرا کہانی کار اس طرح کر پاتا۔
دوسرے بیدی کا ذکر بھی ضروری ہے جن کے بارے میں بہت سے لوگ شاید زیادہ نہ جانتے ہوں۔ یہ بابا پیارے لال بیدی تھے۔
بی پی ایل بیدی فلسفے میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے تو یوں ان کی شخصیت کے کئی حوالے ہیں۔ انہوں نے اپنے گھر 98 ای ماڈل ٹاؤن کے آنگن میں خیمے لگائے اور عام آدمی کی سی زندگی بسر کر کے ایک مثال قائم کی۔ یہ ذکر طویل ہو گیا کیوںکہ بی پی ایل بیدی ہی نہیں بلکہ ذکر عالمی شہرت یافتہ اداکار کبیر بیدی کا کرنا ہے جو آج ہی کے روز 16 جنوری 1946 کو بی پی ایل بیدی اور فریڈا بیدی کے گھر پیدا ہوئے۔
مزید پڑھیں
-
دھرمیندر کی پہلی محبت اور خوابوں کی جستجوNode ID: 897556
تقسیم ہوئی تو وہ ایک ڈیڑھ برس کے تھے مگر لاہور سے اُن کی محبت ہمیشہ برقرار رہی ہے۔
اگست1947 میں تقسیم کے ہنگام کے دوران یہ خاندان کشمیر منتقل ہو گیا تو کبیر بیدی نے اپنے بچپن کا ایک بڑا حصہ وہیں گزارا، جس کے بعد یہ خاندان نئی دہلی میں آ بسا۔
کبیر بیدی کا داخلہ آنٹی گاؤبا سکول میں کروا دیا گیا جہاں ان کی دوستی اندرا گاندھی کے بیٹوں راجیو اور سنجے سے ہو گئی اور یہ تعلق زندگی بھر قائم رہا۔
اداکار نے انڈیا کے معتبر ترین تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور مختصر مدت کے لیے رابندر ناتھ ٹیگور کے قائم کردہ ادارے شانتی نکیتن میں بھی تعلیم حاصل کی۔
کبیر بیدی نے فلم فیئر میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میرے والدین نے مجھے اپنی زندگی سے یہ سبق دیا کہ انسان اپنی زندگی اپنی شرائط پر بھی جی سکتا ہے اور ضروری نہیں کہ ہمیشہ آزمودہ اور روایتی راستوں پر ہی چلا جائے۔ اس کے باوجود آپ ترقی بھی کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی کو کامیاب بھی بنا سکتے ہیں۔‘
کبیر بیدی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ دہلی میں آل انڈیا ریڈیو سے بھی منسلک رہے اور انہوں نے اس دوران معروف بینڈ ’بیٹلز‘ کے ارکان کا انٹرویو بھی کیا جو افتادِ زمانہ کی نذر ہو چکا ہے۔
ریڈیو مگر ان کی منزل نہیں تھا۔ فلموں میں کام کا شوق بمبئی (موجودہ ممبئی) لے گیا۔ ان کا ارادہ فلموں کی ہدایت کاری کرنے کا تھا۔ انہوں نے پانچ برس تک ایڈورٹائزنگ انڈسٹری میں کام کیا جس کے باعث ان کو فلم سازی کے رموز سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے اس عرصے میں 100 سے زیادہ ایڈ فلمز بنائیں۔
تاہم 60 کی دہائی کے وسط میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے گریش کرناڈ کے تحریر کردہ اور علیق پدمسی کے ہدایت کردہ ڈرامے ‘تغلق‘ میں کام کیا جس کے باعث ان پر فلمی دنیا کے دروازے کھل گئے۔

انہوں نے اس کے بعد او پی رالہن کی فلم ’ہلچل‘، راج کھوسلہ کی ’کچے دھاگے‘، مہیش بھٹ کی ’منزلیں اور بھی ہیں‘، اولڈ راوین دیو آنند کی فلم ’عشق عشق عشق‘ اور راج کمار کوہلی کی ’ناگن‘ جیسی فلموں میں کام کیا اور یوں وہ 70 کی دہائی میں ایک کامیاب اداکار کے طور پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
انہوں نے بعد کے عشروں میں ہدایت کار راکیش روشن کی فلم ’خون بھری مانگ‘، فیروز خان کی ’یلغار‘، اکبر خان کی ’تاج محل: این ایٹرنل لو سٹوری‘، فرح خان کی ’میں ہوں نا‘، ہرتیک روشن کی ’کائٹس‘ اور آشوتوش گواریکر کی فلم ’موہنجو داڑو‘ میں کام کیا، یوں ان کا فنی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
وہ بہت عرصہ تو بالی وُڈ سے دور بھی رہے، اس لیے نہیں کہ انہوں نے اپنی والدہ کی طرح سنیاس لے لیا تھا بلکہ اس لیے کہ وہ بالی وُڈ کے اُن ابتدائی اداکاروں میں شامل تھے جنہوں نے عالمی سنیما کا رُخ کیا۔
ہوا کچھ یوں کہ سنہ 1974 میں اطالوی فلم سازوں کا ایک گروپ انڈیا کے دورے پر آیا جنہیں ایک ٹیلی ویژن سیریز کے لیے مرد اداکار کی تلاش تھی۔ یہ کردار ایک ایشیائی ہیرو کا تھا جو برطانوی نوآبادیاتی طاقت کے خلاف جدوجہد کرتا ہے۔
دراز قد، وجیہہ شخصیت اور پُروقار آواز رکھنے والے کبیر بیدی کی شخصیت ان کے تصوراتی کردار کے مطابق تھی تو یوں نوجوان بیدی کا ایڈیشن ہوا، اور وہ ’ساندوکان‘ میں مرکزی کردار حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ سیریز زبردست کامیاب رہی اور کبیر بیدی کا شمار اٹلی کے نمایاں اداکاروں میں کیا جانے لگا۔ انہوں نے 1975 میں وجے ٹندولکر کے ڈرامے ’ولچرز‘ میں بھی اداکاری کی۔
کبیر بیدی نے سنہ 1978 میں’دی تھیف آف بغداد‘ میں کام کیا اور وہ اگلے ہی برس فلم ’آشانتی‘ میں مائیکل کین اور عمر شریف جیسے عالمی شہرت یافتہ اداکاروں کے ساتھ نظر آئے۔

کبیر بیدی کی فنی زندگی میں سنہ 1983 ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جب انہیں جیمز بانڈ کی فلم ’آکٹوپسی‘ میں کام کرنے کی پیش کش ہوئی۔ یہ ان کے لیے باعثِ فخر لمحہ تھا کہ وہ ہالی وڈ کے نامور اداکار راجر مور کے ساتھ سکرین شیئر کر رہے تھے۔
انہوں نے فلم فیئر میگزین کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں ان دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اٹلی میں ہی نہیں بلکہ پورے یورپ میں جو کچھ ہوا وہ غیرمعمولی تھا۔ اس کے بعد میں واپس ہندوستان نہیں آیا۔ میں ہالی وُڈ چلا گیا اور اپنی زندگی کے 25 برس ہندوستان سے باہر گزارے۔‘
’بالی وُڈ ہی وہ جگہ تھی جہاں سے میرا آغاز ہوا۔ اسی نے مجھے وہ شناخت دی جس کی بدولت اطالوی فلم سازوں نے مجھے دریافت کیا۔ پھر 90 کی دہائی میں ’خون بھری مانگ‘ کے ذریعے میری دوبارہ بالی وُڈ میں واپسی ہوئی، جو میرے لیے زندگی کا دوسرا موقع ثابت ہوا۔‘
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’میں بعد ازاں امریکہ لوٹ گیا جہاں میں نے ’دی بولڈ اینڈ دی بیوٹیفل‘ میں کام کیا، جس نے ایک بار پھر مجھے دنیا بھر میں مداح عطا کیے۔ اس سیریز کو ایک ہی دن میں 35 کروڑ لوگوں نے دیکھا۔ بالی وُڈ کبھی میری زندگی میں شامل رہا، تو کبھی میں اس سے دور رہا۔ میں نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ اپنی پوری زندگی بیرونِ ملک گزار دوں۔‘
کبیر بیدی کی رومانی زندگی بھی اُتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ انہوں نے چار شادیاں کیں۔ ان کی پہلی بیوی پروتِما تھیں۔ ان دونوں کی پہلی ملاقات اتفاقیہ طور پر ہوئی تھی جس کا خوشگوار انجام ہوا۔
اداکار نے پوڈ کاسٹ ’ڈیجیٹل کمنٹری‘ میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں ان دنوں ایک تشہیری ایجنسی میں کام کر رہا تھا تو بہت کم عرصے میں سینیئر ایگزیکٹو بن گیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے ایک الگ باتھ روم کی چابی دی گئی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایک دن میں دفتر آیا اور واش روم استعمال کرنا چاہا، مگر میرے پاس چابی نہیں تھی۔ میں اپنے ساتھی سریش ملک کے کیبن میں گیا اور اس سے چابی مانگی۔ وہاں اس کے ساتھ ایک خاتون موجود تھیں۔ اس نے میرا تعارف ان سے کرایا، اور جیسے ہی اس نے ایسا کیا، میں ان خاتون سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ بے حد خوبصورت تھیں اور مجھے بہت بھا گئیں۔‘
کبیر بیدی نے مزید کہا تھا کہ ’لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ ایک ماڈل تھیں، اور میں نے بطور فلم ساز یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ میں کبھی کسی ماڈل سے تعلق نہیں رکھوں گا، کیوںکہ اس سے غلط تاثر جا سکتا تھا۔ میں نے صرف اتنا کہا، ’آپ سے مل کر خوشی ہوئی‘، اور وہاں سے چلا آیا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ بات آگے نہیں بڑھے گی، اور ویسے بھی اس وقت دہلی میں میری ایک گرل فرینڈ تھی۔‘
لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا، اور جلد ہی دونوں کی شادی ہو گئی۔ کبیر بیدی کے مطابق پروتِما مجھے پسند کرتی تھیں، اور جہاں جہاں میں جاتا وہ بھی وہیں موجود ہوتیں۔ ہمارے درمیان رومان نے جنم لیا اور آخرکار ہم نے شادی کر لی۔
اداکار کے اس شادی سے دو بچے ہوئے۔ پوجا بیدی اور سدھارتھ بیدی۔ پوجا بیدی نے بھی بالی وُڈ میں قدم رکھا اور بہت سی فلموں میں کام کیا جن میں مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کے ساتھ فلم ’جو جیتا وہی سکندر‘ بھی شامل ہے۔ سدھارتھ بیدی شیزوفرینیا کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے جس کے باعث انہوں نے محض 26 برس کی عمر میں خودکشی کر لی تھی جو کبیر بیدی کے لیے ایک ایسا صدمہ تھا جسے برداشت کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔
بہرحال پروتِما کے ساتھ ان کا رشتہ اُتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ اس دوران ہی ان کی زندگی میں اداکارہ پروین بابی آئیں اور دونوں کی محبت نے شہ سرخیوں میں جگہ پائی اور بالی وُڈ کی ناکام پریم کہانیوں میں ایک اور کہانی کا اضافہ ہو گیا۔

پروین کے ساتھ ان کی وابستگی کا آغاز 70 کی دہائی میں ہوا۔ ان دونوں کا تعلق نہایت شدید اور گہرا تھا۔ وہ ایک جذباتی طور پر زخمی انسان کے لیے مرہم بن کر آئی تھیں۔ اگرچہ دونوں نے شادی نہیں کی، مگر یہ رشتہ درحقیقت شادی جیسا ہی تھا۔
مہیش بھٹ کی اس وضاحت کے بعد کہ پروین پہلے ہی شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر پاکستان میں تھے، یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ شادی کیوں نہ کر سکیں۔
پروین ’ساندوکان‘ کی غیرمعمولی کامیابی کے دوران کبیر بیدی کے ساتھ اٹلی بھی گئیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پروین کی ذہنی صحت دن بدن خراب ہو رہی تھی۔ ایک طرف شہرت کی دیوی ان پر مہربان تھی تو دوسری جانب ان کی زندگی میں گہری اُداسی چھاتی جا رہی تھی۔
کبیر بیدی نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پروین کی ذہنی کشمکش اس قدر شدید تھی کہ انہوں نے اپنی بیماری کا علاج کروانے سے انکار کر دیا، اور یہی ان دونوں کے تعلق کے ٹوٹنے کا نقطہ آغاز بنا۔‘
کبیر بیدی کی یادداشت میں وہ ملاقات بھی محفوظ ہے جو پروین کی وفات سے تقریباً ایک برس قبل ہوئی تھی۔ پروین انہیں دیکھ کر خوش ہوئیں اور وہ خود بھی۔ ان دنوں پروین نے امیتابھ بچن اور فلمی صنعت کے دیگر افراد پر طرح طرح کے الزامات عائد کیے تھے۔ وہ کہنے لگیں کہ لوگ انہیں پاگل سمجھتے ہیں۔
کبیر بیدی نے اس پر کہا کہ ہر انسان کے نزدیک پاگل پن کا اپنا مفہوم ہوتا ہے۔ مگر یہ بات پروین نے منفی انداز میں لی، کیوںکہ وہ یہ جواب سننا نہیں چاہتی تھیں۔ چناںچہ انہوں نے فوراً کہا کہ تم بھی انہی لوگوں میں شامل ہو، اور میں تمہیں دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتی۔ یوں ان کی دوستی وہیں ختم ہو گئی۔
کبیر بیدی کہتے ہیں کہ ’پروین کو اس حالت میں دیکھنا انتہائی دل خراش تھا، اور وہ جانتے تھے کہ وہ اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ تاہم انہیں یہ جان کر کچھ اطمینان ضرور تھا کہ پروین معاشی طور پر محفوظ تھیں، ان کا اپنا گھر تھا، ان کی دیکھ بھال ہو رہی تھی اور انہیں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ اس کے باوجود یہ ایک افسوس ناک انجام تھا۔‘

کبیر بیدی نے محبت کو ایک اور موقع اس وقت دیا جب سنہ 1980 میں پروتِما سے طلاق اور پروین کے ساتھ تعلق ختم ہونے کے فوراً بعد ان کی ملاقات برطانیہ میں مقیم فیشن ڈیزائنر سوزن ہمفریز سے ہوئی۔
دونوں کی اولین ملاقات اُس وقت ہوئی جب سوزن ماڈلنگ کی ایک اسائنمنٹ کے سلسلے میں امریکہ آئی ہوئی تھیں۔ ان کی ملاقات اور محبت کی ابتدا کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ کبیر اور سوزن نے شادی کر لی اور سنہ 1981 میں ان کے ہاں بیٹے آدم بیدی کی پیدائش ہوئی، جو بعد میں ماڈل کے طور پر کام کرنے لگے۔ تاہم یہ جوڑا 80 کی دہائی کے اوآخر میں علیحدہ ہو گیا اور سنہ 1990 میں ان کی شادی کا باضابطہ طور پر طلاق پر اختتام ہوا۔
اداکار کی سنہ 1991 میں بی بی سی کی معروف ریڈیو پریزینٹر نِکی مولگاؤکر سے ملاقات ہوئی۔ نکی کبیر بیدی سے 20 برس چھوٹی تھیں مگر عمر کا یہ فرق ان دونوں کی محبت میں رکاوٹ نہیں بنا اور جلد ہی دونوں نے شادی کر لی۔
اداکار نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’وہ دو بار شادی کر چکے ہیں اور دونوں شادیاں ناکام رہیں مگر ہر مرحلے پر انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور اپنی سابقہ بیویوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’وہ اب نِکی کے ساتھ ہیں اور یہ ان کا آخری ازدواجی تعلق ہے۔‘
تاہم یہ شادی بھی زیادہ دیر نہ چل سکی اور دونوں میں سنہ 2005 میں باہمی رضامندی سے طلاق ہو گئی۔
نِکی سے طلاق کے بعد کبیر بیدی کی ملاقات لندن میں مقیم انڈین سماجی محققہ پروین دوسانج سے ہوئی جو عمر میں اداکار کی صاحب زادی پوجا بیدی سے بھی چھوٹی ہیں مگر اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ تاہم سابقہ شادیوں کے برعکس اس بار اداکار کی بیٹی پوجا اس رشتے کے خلاف تھیں۔ اس کے باوجود اداکار اور پروین نے ایک ساتھ عوامی تقاریب میں شرکت کی اور کھلے عام اپنے لیو اِن ریلیشن شپ کے بارے میں بات کی۔

کبیر بیدی اور پروین دوسانج کا تعلق خاصی توجہ کا مرکز بنا، جس کی ایک بڑی وجہ پوجا کی پروین کے حوالے سے شدید ناپسندیدگی تھی۔
پوجا کی یہ ناپسندیدگی بھی ان دونوں کو شادی سے نہ روک سکی اور دونوں سنہ 2016 میں رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔ اس وقت اداکار کی عمر 70 برس تھی۔
اداکار آج اپنی 80 ویں سالگرہ منا رہے ہیں مگر وہ اس عمر میں بھی جواں جذبوں کے ساتھ اداکاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد اعزازات اپنے نام کیے ہیں جن میں اٹلی کا اہم ترین شہری اعزاز ’آرڈر آف میرٹ آف دی اٹالین ریپبلک‘ بھی شامل ہے۔ انہوں نے اگرچہ روایتی ڈگر سے ہٹ کر زندگی گزاری مگر بالی وُڈ اداکاروں کو یورپی سنیما اور ہالی وُڈ کا راستہ اُس وقت دکھایا جب ایسا سوچنا بھی ممکن نہیں تھا۔












