Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے اعلان کا نوٹس

اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ معاملے پر حکومت سے ہدایات لے کر سپریم کورٹ کو آگاہ کریں گے۔ فوٹو: سکرین گریب
پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز دینے کے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔
بدھ کو عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل کو اس حوالے سے نوٹس جاری کیے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے نوٹس اخباری خبر پر لیا۔
سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے اختتام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’اخبارات میں پڑھا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے ارکان قومی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دیے جا رہے ہیں۔ کیا وزیراعظم کا ترقیاتی فنڈز دینا آئین، قانون اور عدالتی فیصلوں کے مطابق ہے؟‘
جسٹس فائز عیسیٰ نے معاملے پر اٹارنی جنرل کو طلب کیا۔
عدالت نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان سے ترقیاتی فنڈز کی قانونی حیثیت کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’وزیراعظم عموماً آئین و قانون کے مطابق ہی ترقیاتی فنڈز دیتے ہیں لیکن فی الوقت موجودہ معاملے میں میرے پاس معلومات نہیں۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ’حکومت سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔ اگر یہ ترقیاتی فنڈز آئین قانون کے مطابق ہوئے تو معاملہ ختم کر دیں گے۔ اگر ترقیاتی فنڈز کا معاملہ آئین کے مطابق نہ ہوا تو کارروائی ہوگی۔ عدالتی کارروائی پر بینچ بنانے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو ارسال کیا جائے گا۔‘
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’میں حکومت سے ہدایات لے کر سپریم کورٹ کو آگاہ کروں گا۔ جو بھی کام ہوگا وہ قانون، آئین اور عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ہوگا۔‘ 
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے حکومتی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں حکومت کے آخری سال میں ارکان پارلیمنٹ کو 50 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈ دینے کا اعلان کیا تھا۔

شیئر: