پاکستان کے صوبہ پنجاب سے بیرونِ ملک جانے والے ہنر مند افراد کو پی آئی اے کے ٹکٹ کی خریداری میں رعایت ملے گی جس کا اطلاق اسی ہفتے سے شروع ہو گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ فنڈ (پی ایس ڈی ایف) کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے تحت بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرنے والے ہنرمند افراد کو ’پرواز کارڈ‘ کے ذریعے ہوائی جہاز کے ٹکٹ کی فوری خریداری اور ٹیکس کی مد میں سات فیصد تک رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس سہولت سے وہ ہنر مند افراد ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو پنجاب حکومت کا ’پرواز کارڈ‘ رکھتے ہیں۔ حکام کے مطابق پرواز کارڈ اب ملک بھر میں پی آئی اے کے تمام دفاتر، فرنچائزز اور ایئرپورٹ کاؤنٹرز پر نصب پی او ایس (پوائنٹ آف سیل) سسٹمز پر ایکٹیو کر دیا گیا ہے۔
پرواز کارڈ ہے کیا اور یہ کون حاصل کر سکتا ہے؟
اس تازہ پیش رفت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے پرواز کارڈ کے بارے میں گہرائی سے جاننا ضروری ہے۔ اس کا آغاز جنوری 2026 میں ہنر مند افراد کو بیرونِ ملک بھیجنے کے مجاز ادارے پنجاب سکلز ڈویلمپنٹ فنڈ (پی اسی ڈی ایف) اور بینک آف پنجاب کے درمیان شراکت داری سے ہوا۔
مزید پڑھیں
پی ایس ڈی ایف کے سربراہ احمد خان بتاتے ہیں کہ ’اس منصوبے کا مقصد ان ہزاروں پاکستانی ہنرمند ورکرز کی معاشی مدد کرنا ہے جو بیرونِ ملک روزگار کی پیشکش حاصل ہونے کے باوجود صرف ابتدائی سفری اور کاغذی اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے روزگار حاصل نہیں کر پاتے تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’بیرونِ ملک ملازمت مل جانے کے باوجود ٹکٹ خریدنا، اووسیز ایمپلائز پروموٹرز کی فیس کی ادائیگی اور چھوٹے چھوٹے خرچے اس قدر زیادہ ہو جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس ان معاملات کے لیے پیسے ہی نہیں ہوتے تو پنجاب حکومت نے اس حوالے سے یہ فیصلہ کیا کہ ایسے افراد جن کو بیرون ملک ملازمت مل گئی ہے اور وہ اخراجات کی وجہ سے پریشان ہیں تو ان کے لیے بلاسود قرضوں کی سکیم کا اجرا کیا جائے۔ ابتدائی طور پر 45 ہزار افراد اس سکیم سے مستفید ہو سکیں گے۔‘
ملتان کے 28 سالہ محمد رمضان بھی اس سکیم سے فائدہ اُٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ کچھ ماہ قبل ان کے پاس متحدہ عرب امارات کی ایک تعمیراتی کمپنی کا تصدیق شدہ جاب آفر لیٹر موجود تھا، لیکن ویزا فیس، میڈیکل ٹیسٹ اور ٹکٹ کے لیے انہیں دو لاکھ روپے نقد کی ضرورت تھی۔ ان کا یہ پیسے نہ ہونے کے باعث بیرونِ ملک جانا خطرے میں پڑ سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے آن لائن اپلائی کیا اور اس کے بعد میرے سے بینک والوں نے رابطہ کیا اور اب کچھ دن پہلے میرا کارڈ بن کر آ گیا ہے اور میری اگلے ہفتے فلائٹ ہے۔ وہاں جا کر میں اب قسطوں میں یہ رقم بینک کو واپس کروں گا۔ کسی سے قرض مانگنے سے تو یہ سہولت بہت بہتر ہے۔‘
اسی طرح فیصل آباد کے ساجد علی کو سعودی عرب میں ملازمت ملی ہے۔ اُن کا بھی یہ کہنا ہے کہ ’پرواز کارڈ کی وجہ سے اخراجات کے لیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑا۔ مجھے پانچ لاکھ روپے کی ضرورت تھی کیونکہ میں نے اس کمپنی کو بھی فیس ادا کرنی تھی جس نے مجھے یہ ملازمت تلاش کر کے دینے میں مدد فراہم کی۔ میرا نہیں خیال تھا کہ اس کارڈ سے اس قدر سہولت ملے گی۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 سے اب تک 18 ہزار سے زیادہ افراد پرواز کارڈ کے حصول کے لیے اپلائی کر چکے ہیں۔ تاہم بینک آف پنجاب کیس ٹو کیس درخواستوں کا جائزہ لے کر پرواز کارڈز کا اجرا کر رہا ہے۔
یہ سکیم کام کیسے کرتی ہے؟
احمد خان کہتے ہیں کہ ’اس سکیم سے فائدہ اُٹھانے کا طریقۂ کار سادہ اور شفاف رکھا گیا ہے۔کسی امیدوار نے اگر لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز (او ای پی) کے ذریعے ملازمت حاصل کی ہو یا پھر اپنی ذاتی کوششوں سے کسی غیر ملکی کمپنی سے جاب آفر لیٹر لیا ہو، تو وہ پی ایس ڈی ایف کے آن لائن پورٹل سے پرواز کارڈ کے لیے درخواست جمع کروا سکتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ کارڈ حاصل کرنے کے لیے پنجاب کے کسی بھی شہر کا ڈومیسائل، قومی شناختی کارڈ اور آجر کی جانب سے تصدیق شدہ جاب آفر لیٹر فراہم کرنے کی بنیادی شرائط پوری ہونے پر بینک آف پنجاب یہ کارڈ جاری کر دیتا ہے۔ پہلے ہمارا ادارہ دستاویزات کی ضروری تصدیق کرتا ہے۔ بعدازاں بینک آف پنجاب اپنے طریقۂ کار کے تحت درخواست گزاروں کی چھان بین کرتا ہے۔‘
خیال رہے کہ پی آئی اے کی شمولیت سے پہلے پرواز کارڈ بنیادی طور پر سفر سے قبل کے مرحلے تک محدود تھا، جس میں امیدوار کو ویزا فیس، میڈیکل ٹیسٹ، پروٹیکٹر اور سکل ویریفکیشن کی ادائیگیوں کے لیے 20 فیصد تک نقد رقم (کیش) نکالنے کی اجازت تھی۔ تاہم اب پی آئی اے کے شراکت دار بننے سے اس کارڈ کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔
پرواز کارڈ ہولڈر اب پی آئی اے کی فرنچائزز پر کارڈ سوئپ کر کے نقد رقم ادا کیے بغیر ون وے اکانومی کلاس ٹکٹ خرید سکتے ہیں، اور ساتھ ہی انہیں ٹیکس کی مد میں سات فیصد تک رعایت بھی حاصل ہو گی۔













