Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ورکشاپ میں کام کرنے والی پہلی سعودی خاتون مکینک

بے روزگاری کا مقابلہ ورکشاپ میں کام ڈھونڈ کر کیا ہے(فوٹو سبق)
سعودی عرب کے علاقے تبوک میں ریم الحسن نے ایک ورکشاپ میں ملازمت کرکے پہلی سعودی خاتون مکینک ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق ریم الحسن نے بے روزگاری کا مقابلہ ملازمت کی تلاش کا سلسلہ بند کر کے ورکشاپ میں کام ڈھونڈ کر کیا ہے۔ سعودی خاتون نے باقاعدہ مکینک کا کام سیکھا ہے۔ 
ایم بی سی نے ریم الحسن کے حوالے سے مفصل رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا کہ ریم الحسن نے الیکٹرانک کاروں میں موجود خرابیوں کا کمپیوٹر سسٹم سے پتہ لگانے کا ہنر سیکھا اور اب وہ تبوک کے ایک پرانے ورکشاپ میں کامیابی سے مکینک کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
ریم الحسن نے بتایا کہ ’شروع میں ورکشاپ میں کام کرتے ہوئے مشکل پیش آئی۔ ورکشاپ آنے والے گاڑیوں کے مالکان کا حیرت سے دیکھنا اور یہ تاثر دینا کہ تمہارا یہاں کیا کام ہے۔ ایک لڑکی کی حیثیت سے مجھے گاڑیوں کے مالکان کی نظریں دکھ دیتی تھیں۔‘
سعودی خاتون کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب میں ماحول کی تبدیلی نے کمال کر دیا ہے۔ اب مردوں کی طرح خواتین بھی گاڑیاں چلانے لگی ہیں۔‘
ریم الحسن روزانہ دس گھنٹے ورکشاپ میں کام کرتی ہیں۔ مختلف گاڑیوں کی اصلاح و مرمت کا ہنر سیکھ چکی ہیں۔ الیکٹریشن کا کام کرتی ہیں اور کمپیوٹر کے ذریعے گاڑیاں چیک کرتی ہیں۔ 
ورکشاپ کے مالک خالد الیامی کا کہنا ہے کہ ’ریم الحسن نے بہت کم وقت میں کافی کچھ سیکھ لیا ہے اور پراعتماد لڑکی ہے۔ بہت اچھے طریقے سے گاڑیوں کی اصلاح و مرمت کا کام کررہی ہیں۔‘

شیئر: