Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دی انٹائٹلڈ پروجیکٹ‘: سعودی ڈیزائنر اسرا علاف جو منفرد ڈیزائن تخلیق کرتی ہیں

علاف کہتی ہیں کہ ’ہم تھوڑے پیمانے پر کپڑے بناتے ہیں اور مارکیٹ میں ٹیسٹ کرتے ہیں۔‘ (فوٹو: انسٹاگرام)
سنہ 2018 میں جب اسرا علاف نے اپنا سعودی فیشن برینڈ ’دی انٹائٹلڈ پروجیکٹ‘ شروع کیا تو اس وقت انہوں نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایسی چیز ڈھونڈنا جس سے انفرادیت کی نمائندگی ہو وہ بہت مشکل تھی، میں چاہتی تھی کہ کچھ منفرد چیز بناؤں۔‘
اسرا علاف نے کہا تھا کہ ’کچھ ایسا بنانا چاہتی تھی جو ایک ہی وقت میں ویسٹرن بھی ہو اور عرب بھی ہو اور جسے آپ اوڑھ سکیں۔‘
اس وقت باوقار فیشن میں اپنی مرضی کا اظہار کرنا بہت کم چیز تصور کیا جاتا تھا۔ اعلاف کہتی ہیں کہ ’مثال کے طور پر عبایا ہمیشہ بند کر کے پہنا جاتا تھا اور ہم چاہتے تھے کہ کیسے اسے آپ اپنے کپڑوں کے ساتھ ملا کر سٹائل کے ساتھ پہن سکتے ہیں، کوئی ایسی چیز ہو جو بہت منفرد ہو اور آپ کو کہیں سے بھی نہ ملے۔‘
سعودی عرب میں فیشن کا رجحان اب بہت زیادہ ٹرینڈز پر مبنی ہو چکا ہے۔ دی انٹائٹلڈ پروجیکٹ کی پہچان کھلے ڈھلے لباس، خوبصورت پرنٹ اور نئے ڈیزائنوں والے لباس ہیں۔
علاف جو مارکیٹنگ پڑھ چکی ہیں، انہوں نے اس کام کا آغاز خود کپڑوں کو ڈیزائن کرکے کیا اور پھر وہ کری ایٹیو ڈائریکٹر کے رول میں آگئیں اور اپنی ایک ٹیم بنائی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’اس وجہ سے آپ ایسے ڈیزائن دیکھ سکتے ہیں جو کئی مختلف تھیمز والے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا بھر سے مختلف آرٹسٹس ہیں جو کچھ نہ کچھ بنا رہے ہیں۔ یہ ایک قسم کا فیوژن کلچر ہے جو سعودی عرب کی ترجمانی کرتا ہے، تاہم مختلف قسم کے ہنر بھی دکھاتا ہے۔‘
’یہ خیال برینڈ کے نام میں بھی جھلکتا ہے۔ میں نے اس کا نام اسے (برینڈ) شروع کرنے سے پہلے ہی سوچ لیا تھا۔ برینڈز کے نام آپ کو پابند کر دیتے ہیں اور ہم وہ نہیں چاہتے تھے۔ عورت کے کئی روپ ہوتے ہیں، وہ کوئی ایک چیز نہیں ہے۔‘
یہی فلسفہ اُن کے ڈیزائن میں بھی نظر آتا ہے، جو دو خواتین کے لیے ہے۔ ایک ایسی خاتون جو نئے ڈیزائن چاہتی ہے اور ایک ایسی خاتون جو موقعے کی مناسبت سے کپڑے پہننا چاہتی ہے۔
اسرا علاف ریاض میں ہوتی ہیں تاہم اُن کی کمپنی اب بھی بھرپور انداز سے خاص طور پر جدہ کے ساحلی کلچر اور پرسکون نظاروں سے جڑی ہوئی ہے۔

پرانے ڈیزائنز سے بچ جانے والے ٹیکسٹائل، ایمبروئڈری اور دیگر مٹیریل کو دوبارہ سے ڈیرائن کیا جاتا ہے۔ (فوٹو: عرب نیوز)

وہ کہتی ہیں کہ ’ریاض میں لمبے عبایا پہنے جاتے ہیں جبکہ جدہ میں چھوٹے عبایا پہنے جاتے ہیں۔ وہ اپنے سلیپرز پہننا پسند کرتے ہیں، وہ ٹخنوں تک کپڑے پہننا پسند کرتے ہیں یا چھوٹے کپڑے۔ ہمارا برینڈ جدہ گرل اسی کی ترجمانی کرتا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس رنگ زیادہ ہیں۔ ایک کپڑے میں سات سے زیادہ رنگ ہیں اور یہ خواتین پر مزید خوبصورت نظر آتے ہیں۔‘
ان ٹائٹلڈ پروجیکٹ کے تمام کپڑے سعودی عرب میں ہی تیار ہوتے ہیں۔ علاف کہتی ہیں کہ ایک پرنٹ یا ایک عبایا کو تیار کرنے میں کئی مہینے لگ جاتے ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ہر ڈیزائن ریلیز ہونے سے پہلے مکمل طور پر تیار ہو۔
کپڑے سِلک، لینن یا کاٹن سے بنائے جاتے ہیں کیونکہ یہ آرام دہ محسوس ہوتے ہیں جس میں نفیس پرنٹس خوب دکھتے ہیں۔
اس کے علاؤہ پائیداری بھی برینڈ کی ایک پہچان ہے جس پر اصلی مٹیریل اور فیبرک کو دوبارہ استعمال کرنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
پرانے ڈیزائنز سے بچ جانے والے ٹیکسٹائل، ایمبروئیڈری اور دیگر مٹیریل کو دوبارہ سے ڈیرائن کیا جاتا ہے اور نئے گارمنٹس بنائے جاتے ہیں جس سے کپڑے ضائع ہونے کے بجائے نئے بن جاتے ہیں۔
علاف کہتی ہیں کہ ’جب ڈیمانڈ کا علم نہ ہو تو سینکڑوں پِیس بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تھوڑے پیمانے پر کپڑے بناتے ہیں اور مارکیٹ میں ٹیسٹ کرتے ہیں۔‘
یہاں تک کہ برینڈ کے ڈبوں کو بھی دوبارہ قابلِ استعمال کرنے کی طرز پر بنایا جاتا ہے۔ جب کسٹمرز نے اوریجنل باکس بلیوں کے گھر کے طور پر استعمال کرنا شروع کیے تو برینڈ کو آئیڈیا آیا کہ ڈبوں کو دوبارہ ڈیزائن کر کے کسٹمرز کو یہ بتائے کہ ڈبوں کو سامان رکھنے کے طور پر اور بلیوں کے گھر کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب میں فیشن کا رواج اب بہت رنگا رنگ اور ٹرینڈ پر مبنی ہو چکا ہے (فوٹو: عرب نیوز)

علاف نے کہا کہ ’ہم نے خود ڈبوں کے پیچھے لکھا کہ یہ بلیوں کے گھر کے طور پر بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ کسٹمرز انہیں دوبارہ سے استعمال کریں۔‘
ان ٹائٹلڈ پروجیکٹ کا ایک اور بامقصد ڈیزائن ’سِین لِیونگ دا کورنیش‘ بھی ہے۔
علاف نے کہا کہ ’مجھے یہ بہت پسند ہے۔ یہ ہر رنگ پر بہت خوبصورت نظر آتا ہے۔ اس میں تتلیاں، پھول اور کھجور کے درخت کے موٹف ہیں جو برینڈ کی شناخت ہیں۔‘

 

شیئر: