Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کا آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز اور بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ا علان

امریکی وزیرِ توانائی نے کہا کہ ’ہم آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کو حفاظت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکہ نے آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے جہازوں اور آئل ٹینکروں کو تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ کے وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے جمعے کو کہا کہ ’امریکی بحریہ جلد آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کو حفاظت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
انہوں نے امریکی ٹی وی ’فاکس نیوز‘ کے پروگرام ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسے ہی حالات مناسب ہوں گے، ہم آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے جہازوں کو سکیورٹی فراہم کریں گے تاکہ توانائی کی ترسیل دوبارہ شروع ہو سکے۔‘
اس وقت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے اس اہم سمندری راستے پر جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
اس سے قبل منگل کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ’امریکی بحریہ جلد سے جلد آئل ٹینکروں کو آبنائے ہُرمز سے گزرانے کے لیے تحفظ فراہم کرے گی۔‘
اس اقدام کا مقصد دنیا بھر میں تیل کی سپلائی میں رُکاوٹ کو روکنا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہُرمز دنیا کا سب سے اہم سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے تیل پیدا کرنے والے بڑے خلیجی ممالک اپنا تیل عالمی منڈی تک پہنچاتے ہیں۔
یہ صورتِ حال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
اس جنگ کے باعث پورے خطے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے، اور آبنائے ہُرمز قریباً بند ہو چکی ہے جبکہ کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی ہیں۔
 اس سے قبل قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے جمعے کو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خلیجی ممالک کی جانب سے تیل کی ترسیل کی بندش کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تیل پیدا کرنے والے خلیج کے ممالک چند ہفتوں میں تیل کی برآمدات روک سکتے ہیں، جس سے تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔‘

 مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

سعد الکعبی کے مطابق ’اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو تیل برآمد کرنے والے زیادہ تر خلیجی ممالک ’فورس میجور‘ کا اعلان کر سکتے ہیں، یعنی وہ غیر معمولی حالات کی وجہ سے اپنے تیل کی ترسیل روک سکتے ہیں۔‘
انہوں نے اپنے انٹرویو میں خبردار کیا کہ ’اس صورتِ حال کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل جبکہ گیس کی قیمت 40 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ تک پہنچ سکتی ہے۔‘
قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی کا مزید کہنا ہے کہ ’اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ چند ہفتے جاری رہی تو دنیا کی معاشی ترقی متاثر ہو گی۔‘
’توانائی مہنگی ہونے سےکئی مصنوعات کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، فیکٹریاں پیداوار بند کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں اور عالمی معیشت میں سلسلہ وار بحران پیدا ہو سکتا ہے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل خلیجی ممالک پر ایران کے جوابی حملوں کی وجہ سے قطر نے دو مارچ کو اپنی مائع قدرتی گیس ایل این جی کی پیداوار بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
قطر کا یہ پلانٹ دنیا کی قریباً 20 فیصد ایل این جی کی ترسیل کرتا ہے، جو ایشیا اور یورپ کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سعد الکعبی نے کہا کہ ’اگر جنگ فوری طور پر ختم ہو بھی جائے تب بھی قطر کو گیس کی ترسیل معمول پر لانے میں چند ہفتے سے چند ماہ لگ سکتے ہیں۔‘

 

 

شیئر: