Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گوگل سمیت بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کے دفاتر ’جلد پاکستان میں بھی‘

شعیب احمد صدیقی سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں دفاتر کھولنا سوشل میڈیا کمپنیوں کے مفاد میں ہے۔(فوٹو:اردونیوز)
وفاقی سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکشن شعیب احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ ملک میں فیس بک، ٹوئٹر، گوگل اور دیگر بڑی کمپنیوں کے خدشات دور کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ جلد پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کرسکیں۔
کوئٹہ میں اردو نیوز کو خصوصی انٹرویو میں وفاقی سیکریٹری نے بتایا کہ حکومت پاکستان اور پی ٹی اے سمیت تمام متعلقہ ادارے فیس بک، گوگل، ٹویٹر اور دیگر اداروں کے ساتھ مسلسل مذاکرات کر رہے ہیں۔ ’کچھ ابہام اور غلط فہمیاں ہیں جن کی وجہ سے کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ انہیں دفاتر کھولنے میں مسائل ہیں۔‘
شعیب احمد صدیقی سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں دفاتر کھولنا ان کمپنیوں کے اپنے مفاد میں ہے۔ ’یہاں کی آبادی زیادہ ہے اورسوشل میڈیا استعمال کرنے والے بھی زیادہ ہیں۔ کمپنیاں آئیں سرمایہ کاری کریں اور بزنس کے اپنے ریٹرنز لیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ منافع کی واپسی کے لیے حکومت پاکستان کی لبرل پالیسی ہے۔ ’کچھ لوگوں نے ابہام اور خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے لیکن جب کمپنیاں ہمارے ساتھ بیٹھتی ہیں تو ان کے بہت سے تحفظات دور ہوجاتے ہیں۔ ہم پرامید ہیں کہ جلد ہی بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کے دفاتر پاکستان میں کھل جائیں گے۔‘
وفاقی سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق ’کئی ٹوئٹر اکاؤنٹس کھلوائے گئے ہیں جہاں غلط طریقے سے اکاؤنٹس بند کیے گئے وہاں احتجاج بھی کیا گیا۔ اکاؤنٹس بلاک کرنے کے پیچھے منفی سوچ موجود ہے۔‘
پاکستان میں فائیو جی سروس متعارف کرانے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ملک میں فائیو جی سروس لانے کے لیے کام جاری ہے۔ ’کوشش ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں فائیو جی سروس شروع کردی جائے۔‘
شعیب احمد صدیقی نے یہ بھی بتایا کہ بلوچستان میں آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اربوں روپے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ’بلوچستان کی چار بڑی قومی شاہراہوں سمیت صوبے کے دور دراز علاقوں میں یونیورسل فنڈ سروس کے ذریعے موبائل فون نیٹ کی فراہمی کے لیے تقریباً دس ارب روپے کے منصوبے اگلے دو سالوں میں مکمل کر لیے جائیں گے۔

شعیب احمد صدیقی نے بتایا کہ تمام متعلقہ ادارے فیس بک، گوگل، ٹویٹر اور دیگر اداروں کے ساتھ مسلسل مذاکرات کر رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد لاکھوں لوگوں کو موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سروس فراہم ہوسکے گی۔
وفاقی سیکریٹری کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں نوجوانوں کو ڈی جی سکلز اور ورچوئل یونیورسٹی کے پروگرامز کی مدد سے تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ ’نئے ٹیکنالوجی پارکس اور نیشنل انکیوبیشن سینٹرز کے نئے کیمپس کھولے جائیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگنائٹ کے ذریعے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میں بلوچستان کے نوجوانوں کوپراجیکٹس دیے جا رہے ہیں تاکہ ان کا ذہن تخلیقی اور صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب ہو۔

شیئر: