اس پالیسی پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی جانب سے تنقید کی گئی۔ اقوام متحدہ کے کمشنر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسے قانونی طور پر رجسٹرڈ افغان شہریوں کی پاکستان میں گرفتاریوں اور بے دخلی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ عالمی تنظیم نے خبردار کیا تھا کہ اس طرح انہیں واپس بھیجنا پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے بیان کے مطابق سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان بھر سے 20 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو واپس بھیجا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صرف پنجاب میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد ایسے افغانوں کو واپس بھیجا گیا جو رجسٹرڈ نہیں تھے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افغان شہری جن کے پاس پاکستان کا ویزا نہیں اُن کو فوری طور پر ملک چھوڑنا چاہیے جبکہ درست ویزے کے حامل افراد کام جاری رکھ سکتے ہیں یا کاروبار چلا سکتے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ پنجاب میں غیرقانونی افغان شہریوں کو رکھنے کے لیے اس وقت 37 ہولڈنگ سینٹرز قائم ہیں جن میں 69 افغان شہری موجود ہیں۔
ان میں سے 20 شہریوں کو جمعرات کو وطن واپسی کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بدستور کشیدگی کا شکار ہیں۔ پاکستان افغانستان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ افغانستان کی طالبان انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔
گزشتہ سال پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی جھڑپوں میں دونوں اطراف سے متعدد افراد مارے گئے تھے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
بدھ کو پاکستان نے افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو طلب کر کے 16 فروری کو پاکستان کے شمال مغربی علاقے باجوڑ میں سکیورٹی فورسز پر حملے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جس میں 11 پاکستانی فوجی اور ایک بچہ ہلاک ہوا تھا۔
اسلام آباد میں افغان سفارت خانے نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
گزشتہ سال پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی جھڑپوں میں دونوں اطراف سے متعدد افراد مارے گئے تھے۔
سنہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کئی موڑ آئے۔
افغانستان نے 12 اکتوبر کو ہونے والی جھڑپوں میں حراست میں لیے گئے تین پاکستانی فوجیوں کو گزشتہ ہفتے رہا کر کے کابل میں سعودی وفد کے حوالے کیا تھا۔