تفتان: گیس باؤزر پھٹنے سے لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا، دو ہلاک
جمعرات 19 فروری 2026 14:46
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
ایران کی سرحد کے قریب پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے تفتان میں واقع ایک ایل پی جی پلانٹ میں گیس باؤزر پھٹنے سے لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس حادثے میں دو افراد ہلاک جبکہ پانچ جھلس کر زخمی ہو گئے۔ آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد گیس باؤزر، گودام، دکانیں اور گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔
مقامی پولیس کے مطابق بدھ کی رات تفتان بازار کے قریب قائم ایل پی جی ڈیکینٹنگ پلانٹ میں کھڑے ایک ایل پی جی باؤزر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کی تاہم ریسکیو آپریشن کے دوران باؤزر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے بعد آگ نے شدت اختیار کر لی۔
دھماکے کے بعد آگ نے پورے پلانٹ، وہاں کھڑے دیگر باؤزرز، قریبی دکانوں، گودام اور گاڑیوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد آگ کے شعلے اتنے بلند تھے کہ انہیں کئی کلومیٹر دور سے دیکھا جا سکتا تھا۔ قریبی ایرانی شہر میرجاواہ میں بھی اس کے شعلے دیکھے گئے۔
مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ رات کے وقت آگ اس قدر پھیل گئی کہ لوگ خوف کے باعث اپنے گھروں سے باہر نکل آئے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں آگ آبادی تک نہ پہنچ جائے۔
ان کے مطابق آگ سے چار ایل پی جی باؤزر مکمل طور پر جل گئے، ایک فلنگ پلانٹ تباہ ہو گیا، چار گودام، متعدد دکانوں، پھلوں سے لدی تین پک اپ گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
ڈپٹی کمشنر چاغی جہانزیب شاہوانی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے حادثے میں دو افراد کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔
ان کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر نعیم شاہوانی فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور آگ بجھانے کی کوششیں شروع کی گئیں تاہم ریسکیو آپریشن کے دوران باؤزر کے پھٹنے سے صورت حال مزید سنگین ہو گئی۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر بھی آگ کی زد میں آ کر معمولی زخمی ہوئے تاہم اس کے باوجود وہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیتے رہے۔
ایک مقامی پولیس اہلکار نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں ایرانی حکومت نے بھی مدد فراہم کی اور قریبی ایرانی سرحدی شہر سے چار فائر بریگیڈ گاڑیوں نے آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیا۔
ڈپٹی کمشنر جہانزیب شاہوانی نے بتایا کہ مذکورہ پلانٹ میں ایران سے لائے گئے ایل پی جی باؤزرز کو خالی کیا جاتا ہے اور یہ آبادی کے قریب واقع ہے جس کے باعث آگ کے پھیلنے اور بڑے نقصانات کا خدشہ تھا۔ اسی لیے ضلع بھر سے ریسکیو ٹیمیں طلب کی گئیں۔ مقامی انتظامیہ، پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور این ایل سی کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا اور کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔
آتشزدگی کے واقعے میں ایک ایرانی ڈرائیور کے جھلسنے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں تاہم ڈپٹی کمشنر نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
