پاکستان اور امریکہ کے درمیان پی آئی کے نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کے لیے معاہدہ
جمعرات 19 فروری 2026 19:48
پاکستان نے امریکی حکومت کے ساتھ نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی مشترکہ ازسر نو تمعیر و تزئین و آرائش کے لیے معاہدہ کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے دستاویزات اور دو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کی ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان کو اپنی سب سے قیمتی بیرونِ ملک سرمایہ کاریوں میں سے ایک کی قدر میں اضافے کا موقع ملے گا۔
ایک صدی پرانا یہ ہوٹل، جو پاکستان کی قومی ایئرلائن کی ملکیت ہے، 2020 سے بند ہے اور یہ اسلام آباد کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پروگرام کاحصہ ہے۔ حکومت اس کی مالیت پہلے ایک ارب ڈالر سے زائد بتا چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان کی کابینہ کی منظوری کے بعد جمعرات کو دونوں ممالک نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
معاشی تعلقات میں وسعت
روئٹرز کی جانب سے دیکھی گئی ایک دستاویز کے مطابق کابینہ کے بریف میں کہا گیا کہ وزیرِاعظم نے وزارتِ دفاع کو امریکی جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی اجازت دے کر اس تجویز کی منظوری دی، تاکہ دوطرفہ اور تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔
پاکستان کی وزارتِ دفاع اور وزارتِ نجکاری نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان واشنگٹن کے ساتھ معاشی روابط کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، جن میں بلوچستان میں ریکوڈک تانبہ اور سونے کے منصوبے کے لیے امریکی مالی معاونت بھی شامل ہے، جس میں بیرک ریسورسز جزوی شراکت دار ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف اس وقت واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔
روئٹرز کی جانب سے دیکھی گئی مفاہمتی یادداشت کے مطابق، منصوبے کو امریکی جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن اور پاکستان کی وزارتِ دفاع سہولت فراہم کریں گی، اور اس میں گرینڈ سینٹرل ٹرمینل کے قریب واقع اس جائیداد کی تزئین و آرائش، آپریشن، دیکھ بھال اور ازسرِنو ترقی شامل ہوگی۔
امریکی جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن بنیادی طور پر امریکی وفاقی اداروں کی املاک اور خریداری کے معاملات کا انتظام کرتی ہے، اور اس کے عوامی طور پر بیان کردہ مینڈیٹ میں عام طور پر غیر ملکی سرکاری اثاثوں کی تجارتی ترقی شامل نہیں ہوتی۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ادارہ کس اختیار کے تحت اس منصوبے میں سہولت کاری کرے گا۔
