لاہور: ’مخالفین کو پھنسانے کے لیے‘ پانچ سالہ بیٹے کا قتل، ملزم کیسے گرفتار ہوا؟
لاہور: ’مخالفین کو پھنسانے کے لیے‘ پانچ سالہ بیٹے کا قتل، ملزم کیسے گرفتار ہوا؟
جمعہ 20 فروری 2026 7:46
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز دیکھنے کے بعد ملزمان سے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے اعتراف جُرم کر لیا (فائل فوٹو: پنجاب پولیس)
لاہور کے علاقے کاہنہ میں 17 فروری کی صبح 7 بجے نسبتاً ایک ویران سڑک سے تھوڑا دُور ایک بچہ اوندھے منہ پڑا تھا اور اس کی گردن سے خُون رِس رہا تھا۔ بچے کی عمر تین سے پانچ سال کے درمیان تھی۔
ایک راہگیر کی نظر پڑی تو اس نے لپک کر دیکھا تو بچے کی گردن دھڑ سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس وقت وہ مُردہ حالت میں پڑا تھا۔
اسی وقت پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے لاش قبضے میں لے کر اُس کا پوسٹ مارٹم کروانے کی غرض سے ہسپتال منتقل کر دی۔اس کے بعد تلاش ورثا کا ایک پیغام سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں ڈال دیا گیا۔
پیغام کچھ یوں تھا کہ ’اطلاع ہے کہ چاند ماری کی بیک سائیڈ، علاقہ تھانہ کاہنہ میں ایک نامعلوم کم سِن بچہ، عمر قریباً تین سال، اُلٹی حالت میں پایا گیا۔‘
’بچے کا گلا پچھلی طرف سے کسی تیز دھار آلے کے وار سے کٹا ہوا ہے۔ بچے نے سُرخ رنگ کے جُوتے اور سلیٹی رنگ کے کپڑے پہن رکھے ہیں۔‘
ٹھیک ساڑھے تین گھنٹے کے بعد ساڑھے گیارہ بجے چوہنگ کے علاقے سے ایک کال موصول ہوئی جس میں فون کرنے والے شخص نے پولیس بتایا کہ ’میرا پانچ سال کا بچہ جس کا نام اذان ہے وہ کل سے غائب ہے۔‘
تھانہ چوہنگ کے ایس ایچ او عظیم انور بتاتے ہیں کہ ’پولیس کو جب دوسری کال موصول ہوئی تو فوری طور پر کال کرنے والے شخص جس کا نام اعظم تھا سے رابطہ کیا گیا۔
اعظم کو بتایا گیا کہ ایک بچے کی لاش آج صبح ہی ملی ہے، انہیں تصویر واٹس ایپ کے ذریعے بھیجی گئی تو انہوں نے فوراً کہا کہ یہ میرا ہی بیٹا ہے جو گذشتہ روز سے لاپتا ہے۔‘ اس کے بعد پولیس نے فوری طور پر اپنی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا۔
پولیس نے چوہنگ سے کاہنہ تک 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی اور معاملے کی چھان بین شروع کر دی۔ایس پی صدر رانا حسین طاہر کہتے ہیں کہ ’اسی دوران پولیس کو پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی موصول ہوگئی۔‘
ایس پی کے مطابق ’یہ رپورٹ بتا رہی تھی کہ بچے کو لاش ملنے سے قریباً 12 گھنٹے قبل قتل کیا گیا تھا، اور تیز دھار آلے سے اُس کا سر تن سے جُدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔‘
تفتیش کے دوران پولیس بچے کے باپ کو بار بار بُلا رہی تھی لیکن اُس کا نمبر بند جا رہا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’ہم نے اسی وقت تمام وسائل اس کیس کی تفتیش میں لگا دیے، لیکن ابھی کوئی سِرا ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ اس دوران ہم بچے کے باپ کو بھی بار بار بُلا رہے تھے لیکن اُس کا نمبر بند جا رہا تھا۔‘ چند گھنٹوں میں قاتل کیسے پکڑا گیا؟
ایس ایچ او عظیم انور کے مطابق ’پولیس بچے کے باپ سے زیادہ متحرک تھی۔ ہم جتنی تندہی سے تفتیش کر رہے تھے اس کے مقابلے میں والد کا رویہ مختلف تھا۔‘
’ایک تو پولیس کو کال کرنے کے تھوڑی دیر بعد اُس کا نمبر بند ہو گیا۔ پھر پولیس اُس کے گھر گئی تو اُس کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ تو بچے کو ڈھونڈنے کے لیے مختلف اداروں کے چکر لگا رہے ہیں، اُن کے موبائل کی بیٹری ختم ہو گئی ہو گی۔‘
ایس ایچ او کہتے ہیں کہ ’یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بچے کے باپ کو تو بھاگ کر فوراً تھانے پہنچنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے فوری طور پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا اور انتہائی احتیاط سے معاملے کو دیکھا۔‘
دوران تفتیش پولیس کو ایسی کئی کڑیاں ملیں جو معاملے کو ایک ہی طرف لے جا رہی تھیں۔ ایس پی رانا حسین طاہر کے مطابق ’بچہ 16 فروری کو لاپتا ہوا لیکن پولیس کو اس کے لاپتا ہونے کی اطلاع 17 فروری کو ساڑھے گیارہ بجے دی گئی۔‘
بچہ 16 فروری کو لاپتا ہوا لیکن والد نے پولیس کو اس کے لاپتا ہونے کی اطلاع 17 فروری کو دی (فائل فوٹو: پِکسابے)
’یہ اطلاع اس وقت دی گئی جب پولیس صبح 7 بجے سے ورثا کو پہلے سے ہی ڈھونڈ رہی تھی اور پھر والد کا رویہ جس میں فون کا بند ہونا، پولیس کے پاس جانے کے بجائے غائب ہو جانا، عجیب تھا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم تو اسے اس لیے ڈھونڈ رہے تھے تاکہ قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔ جب بچے کے والد کا فون آن ہوا تو بھی وہ پولیس کی کال نہیں لے رہا تھا جس پر ہمیں شک ہوا۔‘
پولیس ایک طرف مختلف کیمروں کی فوٹیج کھنگال رہی تھی تو دوسری طرف بچے کے والد پر بھی شک کا راستہ نکل رہا تھا۔
پھر جیسے ہی بچے کا والد اعظم اور اُن کا بھائی ندیم جو ایک ساتھ پولیس کے پاس آئے تو اسی وقت سی سی ٹی وی فوٹیجز سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ بچہ ایک روز قبل ان کے ساتھ ہی تھا۔
ایس ایچ او بتاتے ہیں کہ ’ہمارے پاس فوٹیجز اور لوکیشنز آگئی تھیں اور معاملہ اس طرف ہی جا رہا تھا۔ جب دونوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو دونوں نے بچے کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔‘
پولیس کے مطابق ’بچے کا گلا پچھلی طرف سے کسی تیز دھار آلے کے وار سے کٹا ہوا تھا‘ (فائل فوٹو: آئی سٹاک)
اپنا ہی بچہ کیوں قتل کیا؟
پولیس فائل کے مطابق اعظم چوہنگ کا رہائشی ہے جن کے سات بچے ہیں اور انہوں نے دو شادیاں کیں۔ اُن کی پہلی اہلیہ فوت ہو چکی ہیں جن کے دونوں بچے اب سوتیلی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں۔
ان ہی میں سے ایک بچہ اذان ہے جو کہ اعظم کا سگا لیکن ماں کا سوتیلا بیٹا ہے۔ اعظم خود بڑے پیمانے پر کباڑ کا کام کرتے ہیں۔
ایس ایچ او عظیم انور نے بتایا کہ ’ملزم کا ہُجرہ شاہ مقیم کی ایک پارٹی کے ساتھ کاروباری لین دین کا مسئلہ چل رہا تھا جس میں ملزم نے اڑھائی کروڑ روپے ادا کرنا تھے۔‘
’اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اعظم نے اپنے بھائی ندیم کے ساتھ مل کر اپنے ہی بیٹے کو قتل کر کے اغوا کرنے اور اس کے قتل کا الزام دوسری کاروباری پارٹی پر لگانے کا منصوبہ بنایا تھا۔‘
ایس ایچ او کے مطابق ’اس منصوبے میں ہر چیز ملزمان نے چُھپا رکھی تھی لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ پولیس کس انداز سے کیس کی تفتیش کرے گی۔‘
’ملزم اعظم نے ہُجرہ شاہ مقیم کی ایک کاروباری پارٹی کو اڑھائی کروڑ روپے ادا کرنا تھے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’جب پولیس نے پوری طاقت سے معاملہ کھنگالنا شروع کیا تو یہ دونوں غائب ہو گئے۔ ان کا اصل منصوبہ یہ تھا کہ پہلے بچے کے اغوا کا پرچہ درج ہو گا جو کہ نامعلوم افراد کے خلاف ہو گا۔‘
عظیم انور نے مزید بتایا کہ ’ان کا منصوبہ یہ تھا کہ اس کیس میں مخالف پارٹی کو نامزد کیا جائے گا جو لین دین کے تنازعے پر مبینہ طور پر انہیں دھمکا رہی تھی۔ لاش ملنے اور قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد دوسری پارٹی کسی ڈیل پر آجاتی لیکن سب کچھ اُن کی منصوبہ بندی کے برعکس ہوا۔‘
پولیس کے مطابق ’ملزم اعظم نے سوچ سمجھ کر اپنے سگے بیٹے کی جان لینے کا فیصلہ کیا جو کہ انتہائی تکلیف دہ اور سنگین جُرم ہے۔‘