Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے کن شہروں اور علاقوں میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح زیادہ ہے؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کے 17 بڑے شہروں اور اضلاع میں کورونا کیسز کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس  میں طے کیا گیا ہے کہ ملک کے جن شہروں میں کورونا مثبت آنے کی شرح پانچ فیصد سے زائد ہے ان میں سکولز نویں سے بارہویں جماعت تک بھی مکمل طور پر بند رہیں گے۔
قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ’ہم نے احتیاط نہیں کی تو لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔‘
اس کے علاوہ انہوں نے اعلان کیا کہ 'کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے فوج بھی پولیس کے ساتھ سڑکوں پر نکلے گی۔'

 

پاکستان کے کن شہروں میں مثبت کیسز کی شرح زیادہ ہے؟

وزیرِ منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ 'کورونا کیسز پر قابو نہ پا سکنے کی صورت میں شہروں میں مکمل لاک ڈآؤن کے لیے متعلقہ محکموں کو منصوبہ بندی کا کہہ دیا گیا ہے۔'
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق جمعرات تک پاکستان کے 17 بڑے شہروں اور اضلاع میں کورونا کیسز کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان علاقوں میں 100 افراد کا ٹیسٹ کیا جائے تو پانچ سے زیادہ لوگ کورونا کے مریض نکلیں گے۔
ان شہروں میں چاروں صوبائی دارالحکومتوں سمیت اسلام آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔  
ان کے علاوہ مردان، ملتان، بہاولپور، نوشہرہ، حیدر آباد، مظفرآباد، سوات، فیصل آباد، ایبٹ آباد، اور گلگت میں بھی کورونا کے مثبت کیسز کی شرح پانچ فیصد یا اس سے زائد ہے۔

کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد میں مثبت کیسز کی شرح پانچ فیصد سے زائد ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں مثبت کیسز کی سب سے زیادہ شرح مردان میں 34.3 فیصد ہے۔ اس کے بعد ملتان کا نمبر آتا ہے جہاں یہ شرح 33.6 فیصد ہے، جبکہ پشاور میں مثبت کیسز کی شرح 26 فیصد ہے۔
دیگر شہروں میں بہاولپور میں 22 فیصد، نوشہرہ میں 21 اور حیدر آباد میں 20 فیصد ہے۔
بڑے شہروں کا ذکر کیا جائے تو لاہور میں یہ شرح 18.6 فیصد، کراچی میں 10.7 فیصد ، اسلام آباد میں 10.3 فیصد اور کوئٹہ میں 10.4 فیصد ہے۔

شیئر: