Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیپالی کوہ پیما نے 25ویں بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

دو دہائیوں تک گائیڈ رہنے والے شیرپا پاکستان کی کے ٹو سمیت کئی چوٹیاں سر کر چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
نیپال کے کوہ پیما کامی ریٹا شرپا نے پچیسویں مرتبہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر کے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے جو سب سے زیادہ بار چوٹی سر کرنے کا تھا۔
فرانیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شرپا مہم کے لیے رسیاں لگانے والی 12 رکنی ٹیم کا حصہ تھے۔ وہ ان سینکڑوں کوہ پیماؤں میں سے اولین ہیں جو کہ آنے والے ہفتوں کے دوران ایورسٹ کو سر کریں گے۔
مہم کی منتظم مینگما شرپا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’کامی ریٹا اپنی 25 ویں مہم کے ساتھ نیا ریکارڈ بنایا ہے۔’
دو دہائیوں سے زائد تک گائیڈ رہنے والے شرپا نے آٹھ ہزار 848 (29 ہزار انتیس فٹ) کی چوٹی 1994 میں اس وقت سر کی جب وہ ایک کمرشل مہم کے لیے کام کرتے تھے۔
اس کے بعد سے انہوں نے تقریباً ہر سال ایورسٹ کو سر کیا۔
کامی ریٹا شرپا نے بیس کیمپ پر آگے بڑھنے سے قبل اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ بات صرف ریکارڈ سے متعلق نہیں تھی، میں دو ہزار بیس میں پچیسویں بار چڑھ کر پچاس سالہ عمر کی سلور جوبلی منانا چاہتا تھا مگر کورونا کی وجہ سے پچھلے سال یہ نہیں ہو سکا۔ اس لیے اس لیے میں نے اپنا یہ خواب پورا کیا۔‘
کامی ریٹا شرپا اس سے قبل دنیا کی کئی دیگر چوٹیاں بھی سر کر چکے ہیں جن میں مشکل ترین سمجھی جانے والی پاکستان کی آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹی کے ٹو بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی قوم کے لیے کوہ پیمائی کرتا ہوں، ہمارے جیسے گائیڈ نیپال کی ٹورازم کے شعبے کے لیے ضروری ہیں۔ ہمارے بغیر غیر ملکی نہیں آئیں گے‘
2019 میں انہوں نے دو بار ایورسٹ کو سر کیا اور دونوں مرتبہ ایک ریکارڈ بنایا اور ایک توڑا۔

کورونا وبا کی وجہ سے نیپال میں کوہ پیمائی بھی متاثر ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)

مگر اس بار شرپا نسبتاً زیادہ بلندی پر گئے ہیں کیونکہ نیپال اور چین نے ایورسٹ کی بلندی کا پھر سے تعین کرتے ہوئے اسے آٹھ ہزار  848.86 میٹر قرار دی جو نیپال کی پچھلی پیمائش سے زیادہ ہے۔
کامی ریٹا شرپا  ارادہ رکھتے ہیں کہ اس سال بھی دو مرتبہ سر کریں جبکہ اس سال وہ بحرین کی شاہی ٹیم کی رہنمائی بھی کریں گے۔
نیپال کی سیاحت کی صنعت پچھلے سال کورونا کی وبا کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہو گئی تھی۔ نیپال نے کوہ پیمائی کی مہمات بند کر دی تھیں جس کی وجہ سے ملک کا لاکھوں کا نقصان ہوا۔
اس سال نیپال نے چار سو آٹھ پرمٹ جاری کیے ہیں جن میں سے ہر ایک گیارہ ہزار ڈالر کا ہے۔
زیادہ تر کوہ پیماؤں کو نیپالی گائیڈ کا ساتھ میسر ہو گا جس کا مطلب ہے کہ آنے والے ہفتوں میں آٹھ سو سے زائد کوہ پیما چوٹی کے لیے یہی راستہ اپنائیں گے۔
تاہم دوسری جانب کوہ پیماؤں میں بھی کورونا کے کیسز آنے کے بعد یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ کہیں وائرس اس اہم سیزن کو برباد نہ کر دے۔
 
 

شیئر: