Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شامی پناہ گزینوں کے کیمپ میں قابل تجدید توانائی کا سعودی منصوبہ

’سعودی حکومت کی جانب سے 92 لاکھ ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ بطور امداد پیش کیا گیا ہے‘ ( فوٹو: العربیہ)
سعودی ترقیاتی فنڈ کے چیف ایگزیکٹو سلطان بن المرشد نے اردن میں شامی پناہ گزینوں کے الازرق کیمپ میں بجلی کے ایک منصوبے کا افتتاح کیا۔
 العربیہ کے مطابق یہ منصوبہ قابل تجدید توانائی سے کام کرے گا۔ سعودی حکومت کی جانب سے 92 لاکھ ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ بطور امداد پیش کیا گیا ہے۔
 اس سلسلے میں سعودی ترقیاتی فنڈ کو پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کا تعاون حاصل رہا۔
افتتاح کی تقریب میں اردن کے سینئر ذمے داران اور پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشین کے نمائندوں نے شرکت کی۔
 الازرق کیمپ کا یہ منصوبہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ شمار کیا جا رہا ہے۔
 یہ منصوبہ 54 ہزار سے زیادہ شامی پناہ گزینوں اور 10 ہزار سے زیادہ ٹھکانوں کو مفت توانائی فراہم کرے گا۔
اس موقع پر سعودی ترقیاتی فنڈ کے چیف ایگزیکٹو سلطان بن المرشد کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کے ساتھ سعودی ترقیاتی فنڈ کا تعلق 10 برس سے زیادہ پرانا ہے۔ سعودی عرب اس فنڈ کے ذریعے شامی پناہ گزینوں اور ان کی میزبان حکومتوں کو 30 کروڑ ڈالر کی سپورٹ فراہم کر چکا ہے۔

 ’54 ہزار سے زیادہ شامی پناہ گزینوں اور 10 ہزار سے زیادہ ٹھکانوں کو مفت توانائی فراہم کی جائے گی‘ ( فوٹو: العربیہ)

 ساتھ ہی اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے پناہ گزین کے تعاون سے 7.8 کروڑ ڈالر کے 17 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔
 الازرق کیمپ میں سعودی ترقیاتی فنڈ کی امداد بجلی کے نیٹ ورک تک محدود نہیں بلکہ طبی دیکھ بھال اور علاج کی مد میں 30 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے۔
 

شیئر: