Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قدیم مصری حج شاہراہ اور بحر احمر کا موتی ’ضبا‘ شہر

ضبا بندرگاہ عالمی معیشت سے جوڑنے میں پل کا کام دیتی ہے- (فوٹو العربیہ) 
تبوک میں ٹورسٹ گائیڈ عبداللہ زعیر کا کہنا ہے کہ ضبا سعودی عرب کا ساحلی شہر ہے- یہ قدیم مصری حج شاہراہ کا اہم پڑاؤ مانا جاتا رہا ہے- 
العربیہ نیٹ کے مطابق ’ضبا‘ شمالی سعودی عرب کا شہر ہے- یہ اپنے چمکدار ساحلوں کے حوالے سے مشہور ہے-  تجارتی جہازوں اور ماہی گیروں کی کشتیوں کے لیے محفوظ بندرگاہ مانا جاتا ہے- اسے ’بحر احمر کا موتی‘ کہتے ہیں- یہاں متعدد تاریخی مقامات ہیں- 
عبداللہ زعیر نے ضبا کا تفصیلی تعارف کراتے ہوئے  کہا کہ  یہ تبوک ریجن کے کنارے واقع ہے- یہ قدیم مصری حج شاہراہ کا اہم سٹیشن ہوا کرتا تھا- 

اس علاقے کو تجارتی اور ماہی گیری کے حوالے سے محفوظ بندرگاہ مانا جاتا ہے- (فوٹو العربیہ)

زعیر نے بتایا کہ ضبا کے تاریخی مقامات میں کنگ عبدالعزیز کا قلعہ قابل ذکر ہے- جسے مملکت سعودی عرب کی داغ بیل ڈالتے وقت شاہ عبدالعزیز کے زمانے میں تعمیر کیا گیا تھا- 
زعیر نے بتایا کہ ضبا شہر 1352ھ مطابق 1933 میں بسایا گیا تھا- اس کا پرانا علاقہ مشہور ہے- کہہ سکتے ہیں کہ یہ کمشنری کی پہلی بستی تھی- یہ دوسو برس سے کہیں زیادہ پرانی ہے- جسے خلیج ضبا کے  ساحل پر بسایا گیا تھا- 
زعیر نے بتایا کہ یہاں المویلح تاریخی قلعہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے- یہ ساحلی حج شاہراہ کا اہم پڑاؤ ہوتا تھا- اسے آخری اسلامی دور میں شمالی گیٹ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا- 

ضبا چمکدار ساحلوں کے حوالے سے مشہور ہے- (فوٹو العربیہ)

زعیر نے ضبا بندرگاہ کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ بندرگاہ 13 ویں صدی ھجری میں آباد ہوئی- یہاں چھوٹے سے پلیٹ فارم پر حاجیوں کے قافلے اترا کرتے تھے- پلیٹ فارم لکڑی کا بنا ہوا تھا جسے ’الدھو‘ کہا جاتا تھا- یہاں لکڑی سے تیار کردہ کشتیاں آتی تھیں- 
جہاں تک سعودی عہد میں ضبا بندرگاہ کا تعلق ہے تو اس کا افتتاح 1415ھ مطابق 1994 میں ہوا تھا- ضبا بندرگاہ سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے کو عالمی معیشت سے جوڑنے میں پل کا کام دیتی رہی ہے- 
زعیر نے بتایا کہ  ضبا بندرگاہ جغرافیائی محل وقوع کے حوالے سے اہم ہے- یہاں شمالی سعودی عرب، جی سی سی ممالک اور عراق پہنچایا جانے والا سامان آتا ہے- یہ بحراحمر کے شمالی ساحل کے آخر میں واقع ہے-
 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے اردو نیوز گروپ جوائن کریں

شیئر: