Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بالاکوٹ میں حسِ مزاح کی وجہ سے ٹک ٹاکر جاوید مہانڈری کو کیوں قتل کیا گیا؟

پولیس کے مطابق جاوید مہانڈری کے مبینہ قتل کی ویڈیو میں ملزم کی نشان دہی ہو چکی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں ایک معروف ٹک ٹاکر کو قتل کر دیا گیا، وہ مزاحیہ مواد تخلیق کیا کرتے تھے۔
ٹک ٹاکر جاوید مہانڈری کے قتل کا واقعہ پیر کو اس وقت پیش آیا جب مبینہ طور پر اُن کے ساتھی نے انہیں گولی مار دی۔
اطلاعات کے مطابق مبینہ ملزم پولیس کا حاضر سروس ملازم ہے۔ جاوید مہانڈری کے قتل کی اطلاع ملتے ہی لواحقین اور اہلِ علاقہ نے پولیس کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا۔
مظاہرین نے کاغان شاہراہ بند کرکے واقعہ میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مشتعل مظاہرین نے انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بالاکوٹ پولیس سٹیشن میں توڑ پھوڑ بھی کی اور عمارت کو نذر آتش کردیا۔
ٹک ٹاکر جاوید مہانڈری کون تھے؟ 
بالاکوٹ کے رہائشی جاوید مہانڈری علاقے میں اپنی حسِ مزاح کی وجہ سے مشہور تھے جو اپنی باتوں اور حرکتوں سے بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتے تھے۔ مقامی افراد کے مطابق وہ بچوں کے ساتھ بچہ بن جایا کرتے تھے۔
بالاکوٹ کے رہائشی حمید اسلم کے مطابق مقتول جاوید مہانڈری ملنگ صفت انسان تھے۔ ان کی عمر 39 سال تھی مگر وہ ذہنی طور پر بچے ہی تھے اور ہر کسی کا مذاق بھی برداشت کر لیا کرتے تھے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ ’جاوید کو گاؤں کے نوجوان تنگ بھی کیا کرتے تھے لیکن انہوں نے کبھی کسی سے گِلہ نہیں کیا بلکہ وہ اپنی پُرمزاح حرکات سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لے آتے۔ 
جاوید مہانڈری کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ علاقے میں ہونے والی ہر شادی کی تقریب میں شریک ہو کر حاضرین کی خوشیوں کو دوبالا کردیتے تھے۔ گاؤں کے لوگ بھی جاوید کی شخصیت کی وجہ سے انہیں اپنی خوشیوں میں شریک کرنا پسند کرتے تھے۔‘

اطلاعات کے مطابق جاوید مہانڈری کا مبینہ قاتل پولیس کا حاضر سروس ملازم ہے (فائل فوٹو: آئی سٹاک)

جاوید مہانڈری ٹک ٹاک سٹار بھی تھے۔ اُن کی مزاحیہ ویڈیوز ان کے قریبی ساتھی ٹک ٹاک پر اپلوڈ کیا کرتے تھے جو ہزارہ ڈویژن میں بہت زیادہ مقبول تھیں۔
جاوید مہانڈری کا قتل کیسے ہوا؟
بالاکوٹ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او سید اسرار شاہ کے مطابق جاوید مہانڈری کے مبینہ قتل کی ایک ویڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں ملزم کی نشان دہی ہو چکی ہے۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق بولی حسہ کے مقام پر جاوید مہانڈری اپنے دوستوں کی افطار پارٹی میں مدعو تھے اور دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق میں مگن تھے کہ اس دوران ان کے دیگر ساتھی بھی افطاری کے لیے پہنچ گئے۔
افطاری سے قبل نوجوانوں میں مذاق جاری تھا کہ اسی دوران وہاں موجود ان کے ایک دوست نے پستول نکالا اور فائرنگ کر دی، گولی لگنے سے جاوید مہانڈری زخمی ہو گئے اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واقعہ حادثہ معلوم ہو رہا ہے۔

شیئر: