Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ملتان سلطانز کی پاکستان سپر لیگ میں واپسی، مگر یہ ممکن کیسے ہوا؟

گوہر شاہ ملتان سلطانز کے نئے سی ای او ہیں (فوٹو: ملتان سلطانز)
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 2026 سیزن سے قبل سابق ٹیم ملتان سلطانز کی واپسی ہوئی ہے۔
منگل کو لاہور میں پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے سیالکوٹ سٹالینز کے مالکان حمزہ مجید اور گوہر شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اس پیش رفت کا اعلان کیا۔
سیالکوٹ سٹالینز کے شریک مالک حمزہ مجید نے بتایا کہ ’ہمارے ساتھ ملکیت میں گوہر شاہ بھی شامل ہو گئے ہیں جو کرکٹ کو لے کر بہت جذباتی ہیں، بلکہ میں کہوں گا وہ مجھ سے بھی کئی گنا زیادہ کرکٹ پسند کرتے ہیں۔‘

ملتان سلطانز کی واپسی کیسے ہوئی؟

تکنیکی طور پر ملتان سلطانز کی واپسی نہیں ہوئی بلکہ سیالکوٹ سٹالینز کا نام بدل کر ملتان سلطانز رکھ دیا گیا ہے، تاہم ٹیم کے کھلاڑیوں اور مینجمنٹ کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر کے مطابق ’جب سیالکوٹ سٹالینز کے سی ای او گوہر شاہ بنے تو انہوں درخواست کی کہ سیالکوٹ سٹالینز کا نام تبدیل کر کے ملتان سلطانز رکھ دیا جائے۔‘
ان کے مطابق ’جب سیالکوٹ سٹالینز کی نیلامی ہوئی تو اس وقت بھی فرنچائز مالکان کے پاس چھ شہروں کے نام رکھنے کے آپشنز موجود تھے لیکن اس وقت ان میں ملتان کا نام شامل نہیں تھا، پی سی بی کے فرنچائزرز کے ساتھ معاہدے میں یہ گنجائش موجود ہوتی ہے کہ وہ فرنچائز کا نام تبدیل کر سکتے ہیں، جس کی ایک مخصوص فیس ہوتی ہے۔‘
سلمان نصیر بتاتے ہیں کہ ان کی سیالکوٹ سٹالینز کے مالکان کے ساتھ شرائط طے ہوئیں جس کے بعد فیس کی ادائیگی اور دوسرے ضروری امور کی انجام دہی کے بعد ٹیم کا نام بدل کر ملتان سلطانز رکھا گیا۔‘
سلمان نصیر کے مطابق ’اب ملتان سلطانز کی قیمت بھی ایک ارب 85 کروڑ سے بڑھ کر دو ارب ہو گئی ہے۔‘
ملتان سلطانز کے نئے سی ای او گوہر شاہ کا کہنا ہے کہ ’ہم سوچ رہے تھے کہ سٹالینز بغیر سلطان کے پی ایس ایل کیسے فتح کریں گے، تو اب سلطان آگیا ہے، پی ایس ایل فتح کرنے، ٹیم کا سی ای او ہونے کی حیثیت سے میں ٹیم کو آگے لے کر جانے کے لیے بہت پرجوش ہوں اور میں خوش ہوں کہ جنوبی پنجاب کی نمائندگی ایک مرتبہ پھر سے ٹاپ پر ہے۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل سیالکوٹ سٹالینز کی ملکیت کے حوالے سے ایک تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب شریک مالک کامل خان ملکیت سے علیحدہ ہو گئے تھے۔
اس کے بعد یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سی ڈی وینچرز کے گوہر شاہ نے ٹیم کے 98 فیصد شیئرز او زی گروپ سے خرید لیے ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والی نیلامی کے دوران سیالکوٹ کی ٹیم ایک ارب 85 کروڑ روپے کی خطیر رقم میں فروخت ہوئی تھی۔ اس فرنچائز کے لیے سب سے زیادہ بولی معروف رئیل اسٹیٹ کمپنی او زی ڈویلپرز نے دی تھی، جس کے بعد ٹیم باضابطہ طور پر پی ایس ایل کا حصہ بنی تھی۔
دوسری جانب ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین کے پی سی بی انتظامیہ کے ساتھ تنازعے کے بعد ملکیتی حقوق کی تجدید نہیں ہو سکی تھی جس کے بعد اسے دو ارب 45 کروڑ میں ’ویلے ٹیکنالوجیز‘ نے خرید لیا تھا۔ ’ویلے ٹیکنالوجیز‘ نے ملتان سلطانز کا نام بدل کر پنڈیز رکھ دیا تھا۔
اسی نیلامی کے دوران گوہر شاہ نے ملتان سلطانز کی خریداری کے لیے دو ارب 35 کروڑ روپے تک کی بولی لگائی تھی تاہم وہ اسے خریدنے میں ناکام رہے تھے۔
پی ایس ایل سیزن 11 کا انعقاد 26 مارچ سے تین مئی 2026 تک شیڈول ہے اور آٹھ ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی۔

شیئر: