Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

'مطالبات پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا'، گوادر میں دھرنا جاری

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں غیر قانونی ماہی گیری، سرحدی تجارت میں حائل رکاوٹوں اور غیر ضروری سکیورٹی چیک پوسٹوں کے خاتمے کے لیے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
حکومتی وفد سے مذاکرات اور بعض مطالبات سے متعلق سرکاری نوٹیفکیشنز جاری ہونے کے باوجود دھرنے کے شرکا نے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعہ کو اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے گوادر کو حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ 'نوٹیفکیشنز تو جاری ہوگئے مگر کوئی عملدرآمد ہوتا دکھائی نہیں دے رہا بلکہ الٹا چیک پوسٹوں پر مزید سختی کر کے لوگوں کی تذلیل کی جا رہی ہے۔‘
ساحلی شہر میں پورٹ روڈ کے وائی چوک پر گوادر کو حق دو تحریک کے زیر اہتمام احتجاجی دھرنے کو 12 دن ہو گئے ہیں۔
منگل کو بلوچستان کے وزیر ترقی و منصوبہ بندی ظہور احمد بلیدی کی سربراہی میں حکومتی وفد نے مولانا ہدایت الرحمان سے مذاکرات کیے تاہم دھرنے ختم کرنے پر اتفاق نہ ہو سکا۔
ظہور احمد بلیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ساحل سمندر سے 12 ناٹیکل میل کی حدود میں ٹرالرنگ پر پابندی کا نوٹیفکیشن شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 'مولانا ہدایت الرحمان سے مذاکرات کیے اور مطالبات منظور کر کے حکومت نے غیر قانونی ٹرالرنگ کے تدارک کے لیے فشریز، سول انتظامیہ اور میرین سکیورٹی ایجنسی کو اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔'
ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ اور سمندری حیات کی نسل کشی کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔'
ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے بتایا کہ 'محکمہ ایکسائز نے مولانا ہدایت الرحمان صاحب سے مذاکرات کے نتیجے میں گوادر میں شراب خانوں پر پابندی لگا دی۔'
مولانا ہدایت الرحمان نے اردو نیوز کو ٹیلی فون پر بتایا کہ 'شراب خانوں پر پابندی سے متعلق مطالبے پر حوصلہ افزا کام ہوا ہے مگر باقی تین اہم مطالبات پر عمل درآمد سے متعلق کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ '
انہوں نے کہا کہ ساحل سمندر کے قریب غیر قانونی ماہی گیری پر پابندی کا قانون پہلے سے موجود ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔
'ہم نے حکومت کو تین دن کی مہلت دی تھی مگر اس دوران عمل درآمد کی بجائے الٹے اقدامات کیے گئے ہیں۔‘
مولانا ہدایت الرحمان کے مطابق 'غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم، ایف سی اور کوسٹ گارڈ کو واپس بلانے کے بجائے ان چیک پوسٹوں پر پہلے سے زیادہ سختی شروع کر دی گئی ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ہمسایہ ملک کے ساتھ اشیائے ضرورت کی تجارت کے لیے ٹوکن کا نظام رائج ہے جس کے تحت صرف بااثر افراد کو تجارت کی اجازت دی جا رہی ہے۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ تجارت و کاروبار کی اجازت عام لوگوں کو بھی دی جائے۔

شیئر: