Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی و بحرینی دوسری رابطہ کونسل کا اجلاس، متعدد امور پر اتفاق

سعودی ولی عہد و نائب وزیر اعظم و وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیزآل سعود اور بحرینی ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد آل خلیفہ نے منامہ کے ’الصخیرپیلس‘ میں دوسری سعودی ، بحرینی رابطہ کونسل کے اجلاس کی سربراہی کی۔
سعودی خبررساں ادارے ’ایس پی اے‘ کے مطابق رابطہ کونسل کے اجلاس میں دونوں ملکوں کی اعلیٰ و اہم شخصیات نے شرکت کی۔
اجلاس کے آغاز میں بحرینی ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد آل خلیفہ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کو بحرین آمد پرخوش آمدید کہتے ہوئے دونوں ممالک کے  گہرے تاریخی و برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیاـ
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے خطاب میں برادرمملکت بحرین کے دورے کو باعث افتخار قرار دیتے ہوئے سعودی، بحرینی رابطہ کونسل اور اس کی ذیلی کمیٹیوں کی اہمیت کو اجاگرکیا جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید ترقی کی جانب لے جانے کے لیے کوشاں ہےـ

 دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کےلیے نقل وحمل کے امور کو آسان بنانے پراتفاق کیا گیا (فوٹو: ایس پی اے)

اجلاس میں فریقین نے رابطہ کونسل کی جنرل سیکریٹریٹ کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا جس میں کمیٹیوں کی جانب سے دونوں برادر ممالک کی قیادت اور عوام کی خواہشات کے مطابق کی جانے والی کوششوں اور اس مد میں کمیٹیوں کے اجلاسوں کے نتائج کو بیان کرتے ہوئے متعدد سفارشات اور اقدامات پراطمینان کا اظہار کیا جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پربھی  زوردیا گیا تھا۔
فریقین نے مشترکہ دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تعاون و مشاورت کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی سطح پر اپنے سیاسی عمل کو وسیع کرنے کے علاوہ علاقائی سلامتی ، استحکام اور خطے کی خوشحالی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہاـ اس حوالے سے اجلاس میں متعدد امور پراتفاق کیا گیاـ
رابطہ کونسل کے اجلاس میں دنوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے مابین طے شدہ سیاسی مشاورت سے ہم آہنگ ہونے اور سعودی بحرینی نوجوانوں میں انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف کام کرنے کے علاوہ انتہائی پسندانہ نظریات کو فروغ دینے کے لیے کی جانے والے فنڈنگ کے ذرائع کو ختم کرنے کے لیے متعدد اقدامات پرمشترکہ معاہدہ  کیا گیا۔
مشترکہ اجلاس میں متعدد امور پر بھی اتفاق کیا گیا جن میں دوطرفہ تجارت ، سائبر سکیورٹی ، موسمیاتی تبدیلی، قابل تجدید توانائی، انفراسٹرکچر، تعلیم، کھیل، ثقافت، صحت، میڈیا اور سیاحت کے شعبوں میں متعدد اقدامات کو مزید فعال کرنا شامل تھاـ
فریقین نے اس بات کی بھی یقین دہانی کی کہ امن اور عسکری امور میں بھی دوطرفہ تعاون جاری رہے گا۔
علاوہ ازیں دونوں ممالک کے مابین تجارت کو فروغ دینے کے لیے نقل و حمل کے امور کو آسان بنایا جائے گا۔ مسافروں کی آمد ورفت میں بھی آسانی پیدا کرتے ہوئے دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کی سطح پر ڈیجیٹل طریقے سے رابطے کو مزید فعال و بہترکیا جائے گا۔

شیئر: