قصیم کے سوموار بازار میں ماضی اور حال کی جھلک
قصیم ریجن کے شمال میں واقع عیون الجواء گورنریٹ میں ہر پیر کو ایک مارکیٹ لگائی جاتی ہے جو وہاں کی قدیم ترین روایتی مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔
وقت بدلتا رہا ہے لیکن اس مارکیٹ نے زمانے کے نشیب و فراز کا خوب مقابلہ کیا ہے اور زندگی سے بھرپور ایک جیتے جاگتے معاشی اور ثقافتی مرکز کی حیثیت میں اپنے کردار کو برقرار رکھا ہے۔
نہ صرف قصیم بلکہ دُور دُور سے لوگ اس مارکیٹ میں آتے ہیں جسے گورنریٹ کی سٹریٹیجک لوکیشن کی وجہ سے بھی بہت فائدہ پہنچتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے ایک نمائندے نے مارکیٹ جا کر دیکھا کہ وہاں لوگ بڑے ذوق و شوق سےگھوم پھر رہے تھے۔ سٹالوں پر طرح طرح کی چیزیں سجی ہوئی تھیں جن میں زرعی اجناس بھی تھیں۔ کہیں بادام رکھے ہوئے تھے تو کسی جگہ خشک اِنجیر فروخت کے لیے دستیاب تھی۔
جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائی چیزوں میں گھی بھی بِک رہا تھا اور دودھ بھی جس کے خالص، لذت سے لبریز اور غذائیت سے فراواں ہونے میں یہ علاقہ کافی شہرت رکھتا ہے۔
کچھ سٹالوں پر ہاتھوں کی مہارت کا ثبوت بن کر دستکاری کی اشیا خریداروں کا انتظار کر رہی تھیں۔ دوسرے جگہوں پر قدرتی چیزیں بھی رکھی ہوئی تھیں جن میں حِنا خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔

ہفتے کے ہفتے مارکیٹ میں آنے والے اِس بات کو بالخصوص نوٹ کرتے ہیں کہ یہاں کی مُستند اور منفرد شناخت بالکل تبدیل نہیں ہوئی۔
یہ آج بھی چھوٹے دکانداروں کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے جبکہ فیملیز اور گھریلوں صنعتوں میں کام کرنے والوں کے گھر بھی اسی مارکیٹ کی وجہ سے چلتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہ مارکیٹ روایت اور ثقافت کو محفوظ بنانے کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور اِسے تقویت دینے کے ساتھ ساتھ، دیہی معیشت کے لیے بھی سہارے کا باعث بن رہی ہے۔
