Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبرپختونخوا میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، سکیورٹی اہلکار ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں پولیو کے انسداد کی ویکسینیشن مہم کی سکیورٹی ٹیم پر مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا ہے۔
سنیچر کو ٹانک کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) صاحبزادہ سجاد احمد نے اردو نیوز کے نامہ نگار اے وحید مراد کو انسداد پولیو ویکسینیشن ٹیم پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں اقبال نامی پولیس کانسٹیبل ہلاک جبکہ فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کا اہلکار رتاج زخمی ہوا ہے۔
ڈی پی او کا کہنا تھا کہ وہ حملے کے بعد کیے جانے والے آپریشن کو لیڈ کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیو ویکسینیشن مہم کا دوسرا دن ہے اور یہ علاقہ حساس تصور کیا جاتا ہے۔
ٹانک میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ چھدڑ نامی گاؤں میں کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھے جو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ 
خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے ٹانک میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو ورکرز اور پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
ڈی پی او ٹانک سجاد احمد نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور وہ آرمی رسپانس فورس سے بھی رابطے میں ہیں۔ 
ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹانک میں حملہ ان کے مسلح جنگجوؤں نے کیا ہے۔
گزشتہ ماہ حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان بات چیت کے دوران سیزفائر کے اعلان کے بعد کالعدم پاکستانی طالبان نے پہلی بار کسی حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع پولیو ویکسینیشن مہم کے حوالے سے حساس قرار دیے جاتے ہیں۔ اور یہاں ماضی میں بھی سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع پولیو ویکسینیشن مہم کے حوالے سے حساس قرار دیے جاتے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

ٹانک میں جمعے کو ضلعی محکمہ صحت کے حکام نے پولیو ویکسینیشن سے متعلق غیر ملکی وفد کے ہمراہ سخت سکیورٹی میں علاقے کا دورہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ٹانک کے گنجان آباد علاقے سے چار کلو وزنی بم بھی برآمد ہوا تھا جسے پولیس نے ناکارہ بنایا تھا۔ 

شیئر: