Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نجی یونیورسٹیوں کے غیر قانونی کیمپس بند کرنے کا حکم

عدالت نے حکم دیا کہ ملک بھر میں ایچ ای سی کی یکساں پالیسیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سپریم کورٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ملک بھر کی پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے غیر قانونی کیمپس بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
بدھ کو سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی جانب سے غیر قانونی کیمپسز سے ڈگریاں جاری نا کرنے کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ’ایچ ای سی غیر قانونی کیمپس سے پاس آؤٹ ہونے والے طلبا کو مخصوص طریقے سے ڈگریاں فراہم کرے۔‘
عدالت نے حکم دیا کہ ملک بھر میں ’ہائر ایجوکیشن کمیشن کی یکساں پالیسیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
خیال رہے کہ طلبا نے ایچ ای سی کی جانب سے غیر قانونی کیمپسز کی ڈگریاں جاری نا کرنے پر عدالت سے رجوع کیا تھا۔
دوران سماعت طلبا کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے نیب کو نجی یونیورسٹیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔
اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پاس اختیارات ہیں، نیب کو معاملے کی تحقیقات کرنے کی ضرورت نہیں۔‘
’اگر ہائر ایجوکیشن کمیشن کمزور ہے تو وفاق کو حکم دیں گے کہ قوانین میں ترمیم کرے۔‘
علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ طلبا لاہور ہائی کورٹ اپنی ڈگریوں کے لیے گئے تھے، ہائی کورٹ نے نجی یونیورسٹیوں کے کیمپسز کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا۔
اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’لاہور ہائی کورٹ نے درست اور حقائق پر مبنی فیصلہ دیا ہے۔‘

شیئر: