Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پی ڈی ایم سے زیادہ حکومت کو خود گرنے کی جلدی ہے‘

مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کی بے حسی کے باعث مری میں کئی لوگ جانوں سے گئے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اور عوام سے زیادہ خود حکومت کو گرنے کی جلدی ہے۔
منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود مسلم لیگ نہیں ٹوٹی۔
نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مریم نواز نے صحافیوں سے کہا ’آپ تھکتے نہیں یہ سوال پوچھ پوچھ کے‘ جس پر کچھ قہقہے بھی سننے کو ملے، بعدازاں انہوں نے کہا کہ نواز شریف جلد واپس آئیں گے تاہم وقت کا تعین مسلم لیگ ن کرے گی۔
ن لیگی رہنما کے مطابق ’پارٹی کا کوئی ایک رکن بھی نواز شریف کا ساتھ چھوڑ کر نہیں گیا اور چٹان کی طرح کھڑے رہے۔‘
مسلم لیگ ن کے چار رہنماؤں کی اہم شخصیت سے ملاقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایسی جھوٹی خبریں پھیلانا حکومت کی مجبوری ہے تاکہ حقیقت سے توجہ ہٹائی جائے۔
ان کے مطابق حکومتی ارکان ہی وزیراعظم کے منہ کر کہنے لگے ہیں کہ وہ عوام کے سامنے نہیں جا سکتے۔
مریم نواز کے بقول ’حکومت کی کارکردگی بری نہیں سرے سے ہے ہی نہیں۔‘
مریم نواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت وزرا جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ ان کا انجام قریب ہے۔
’اس بے حس حکومت سے عوام کو جتنی جلدی نجات دلائی جائے پاکستان کے حق میں اتنا ہی بہتر ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان اب ایک روز کے لیے بھی اس حکومت کو افورڈ نہیں کر سکتا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف جلد واپس آئیں گے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان پر رحم کھائے۔
انہوں نے کہا کہ اب بات مہینوں یا ہفتوں کی نہیں بلکہ چند روز کی نظر آ رہی ہے۔
مریم نواز نے پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کے حوالے سے وزرا کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بجائے اس پر سیاست کرنے کے بجائے مری کے واقعے کا جواب دیں۔
انہوں نے کہا کہ ’آپ کی بے حسی کی وجہ سے کئی خاندان اپنی جانوں سے گزر گئے۔‘
مریم نواز نے کہا کہ پہلی حکومت ہے جو کسی بھی واقعے کے بعد عوام کو ہی اموات کا ذمہ دار ٹھہرا دیتی ہے۔
انہوں نے ہزارہ برادری کی جانب سے وزیراعظم کے دورے کے اصرار پر وزیراعظم کے بیان ’بلیک میل نہیں ہوں گا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب کسی مشکل وقت میں شہباز شریف بوٹ پہن کر عوام میں جاتے تو ایک شخص تکبر میں کہتا کہ یہ شوباز ہے۔
’میں انتظار کرتی رہی کہ کب عمران خان شہباز شریف سے بوٹ مانگ کر عوام کی مدد کے لیے مری پہنچیں گے۔‘
ان کے مطابق حکومت نے مری واقعے کا الزام بھی سیاحوں پر لگایا جبکہ ذمہ داری اس کی اپنی تھی کہ موسمی حالات کو دیکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرتی۔
 

شیئر: