Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی صدر متحدہ عرب امارات کا پہلا سرکاری دورہ کریں گے

بحرین اور مراکش بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے ہیں (فائل فوٹو: گلف نیوز)
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ رواں ماہ کے آخر میں متحدہ عرب امارات کا  سرکاری طور پر دو روزہ  تاریخی دورہ کریں گے۔
اے ایف پی نیوز ایجنسی کے مطابق صدر کے دفتر کی جانب سے گذشتہ روز منگل کو  بتایا گیا ہے  کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے بعد یہ پہلا  اعلیٰ ترین سطح  کا سفارتی دورہ ہوگا۔
صدر ہرزوگ کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ 30 اور31 جنوری کو ہونے والے اس دورے میں اسرائیلی خاتون اول صدر کے ہمراہ ہوں گی۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ  متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کریں گے۔
​​بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی صدر متحدہ عرب امارات کا پہلا دورہ کرکے اسحاق ہرزوگ تاریخ رقم کرنے کا اعزاز حاصل کر رہے ہیں۔
اسحاق ہرزوگ نے دورے سے متعلق اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک نئے مشترکہ مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
صدر دفتر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دورے کے شیڈول کے مطابق صدر اسحاق ہرزوگ دبئی کے حکمران اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں سے ملاقات کریں گے اور دبئی ایکسپو 2020 کا دورہ بھی کریں گے۔
واضح رہے کہ یہ دورہ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدوں کی ایک سیریز کا حصہ ہے۔ امریکی ثالثی کے اقدام کو 'ابراہیم معاہدہ' کے نام سے جانا جاتا ہے تاہم ایسے معاہدوں نے فلسطینیوں کو ناراض کیا ہے۔
قبل ازیں اسرائیل کے وزیراعظم نفتالی بینیٹ گذشتہ ماہ تاریخ رقم کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی سربراہ بنے۔

دونوں ممالک ایک نئے مشترکہ مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں (فائل فوٹو: عرب نیوز)

وزیراعظم کے اس دورے میں ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی بات چیت کے تناظر میں جزوی طور پر توجہ مرکوز کی گئی جس میں اسرائیل کی سیکیورٹی اولین ترجیح رہی۔
دریں اثنا اسحاق ہرزوگ وہ پہلے اسرائیلی سربراہ ہوں گے جو سرکاری طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے۔
اسرائیلی صدر کی جانب سےاس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان  نئی دلیرانہ شراکت داری مشرق وسطیٰ کو بدل دے گی۔
انہوں نے کہا کہ  اسرائیل ابراہیم معاہدے پر دستخط کرنے والےعرب ممالک کی فہرست کو وسعت دینے کا خواہشمند ہے۔
یہ معاہدہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طے پایا تھا جب کہ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اس کی توثیق کی تھی۔
اس معاہدے کے تحت بحرین اور مراکش کے تعلقات بھی اسرائیل کے ساتھ  معمول پر لائے گئے ہیں۔
سوڈان نے بھی تعلقات معمول پر لانے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے لیکن خرطوم میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کے باعث ابھی رسمی سفارتی تعلقات بحال نہیں ہوئے۔

شیئر: