Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین اقوام متحدہ کے نمائندے کے سنکیانگ کے دورے پر رضامند

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا دورہ 2022 کی پہلی ششماہی میں موسم سرما کے اولمپکس کے بعد ہو گا (فوٹو: اے ایف پی)
چین نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے سنکیانگ کے دورے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے،جو کہ 2022 کی پہلی ششماہی میں موسم سرما کے اولمپکس کے بعد ہو گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے چینی اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کچھ نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے کام کرنے والے ادارے چین پر مغربی علاقے سنکیانگ اویغور اور دوسرے اقلیتی گروپس کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام لگاتے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہاں وسیع پیمانے پر لوگوں کو قید رکھا گیا ہے، جن پر تشدد کیے جانے کے علاوہ ان سے جبری مشقت بھی لی جاتی ہے۔
جبکہ امریکہ کی جانب سے چین پر نسل کشی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
بیجنگ اویغور مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے لگائے جانے والے ایسے تمام الزامات کی تردید کرتا ہے اور وہ اس کو مذہبی شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ضروری پالیسی قرار دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کمشنر مشیل بیچلیٹ 2018 سے سنکیانگ کے دورے کے لیے چین کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہیں۔
چین کی وزارت خارجہ، نیویارک میں چین کے مشن اور اقوام متحدہ کی جانب سے فوری طور پر اس اطلاع پر ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
چین کے اخبار ساؤتھ چائینہ پوسٹ نے جمعرات کے روز اطلاع دی کہ ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بیجنگ میں موسم سرما کے اولمپکس کے بعد اس دورے کی منظوری اس شرط پر دی گئی ہے کہ یہ دورہ ’دوستانہ‘ ہونا چاہیے اور اس کو تحقیقات کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
2008 کے بعد اولمپکس نے ایک بار پھر چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر روشنی ڈالی ہے، جو ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے مزید خراب ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن نے بیجنگ کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ سلوک کو نسل کشی قرار دیا اور امریکہ اور دیگر ممالک سے سفارتی بائیکاٹ کا اشارہ دیا۔
2008 کے بعد سے ایک بار پھر اولمپکس نے چین کے انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ پر روشنی ڈالی ہے، جس کے بارے میں ناقدین کہتے ہیں کہ وہاں اب حالات اس سے بھی بدتر ہیں، جن میں سے واشنگٹن سرفہرست ہے، جو اسے اویغور مسلمانوں کی نسل کشی کہتا ہے جس کے بعد سے امریکہ اور دوسرے ممالک کی جانب سے اس کا سفارتی بائیکاٹ ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے چین کی ڈائریکٹر سوفی رچرڈسن نے جمعے کو ایک ای امیل کے ذریعے بھجوائے گئے بیان میں روئٹرز کو بتایا ’دنیا کے صف اول کے انسانی حقوق کے سفارت کار سمیت کسی بھی چینی حکومت کے ایسے اقدامات سے بے وقوف نہیں بنن چاہیے جو وہ اپنے انسانی حقوق کے جرائم سے توجہ ہٹانے کے لیے کر رہا ہے، جن میں وہ اویغور اور ترک کمیونیٹیز کو نشانہ بنا رہا ہے۔‘

شیئر: