Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جب سٹالن نے اپنے بیٹے کو جرمن فوج کی قید میں مرنے دیا

16 جولائی 1941 کو یاکوف جنگی قیدی کے طور پر جرمن افواج کے قبضے میں تھے (فوٹو: العربیہ)
سوویت یونین کے رہنما جوزف سٹالن کا بچپن اتار چڑھاؤ میں گزارا ہے۔ خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات معمول پر نہیں تھے۔ ان کے والد شراب کے عادی تھے اور ان کی ماں کے ساتھ ساتھ انہیں بھی بہت پیٹتے تھے۔
العربیہ کے مطابق جوزف سٹالن اپنی ماں کی توقعات پر بھی پورے نہیں اتر سکے جو چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا راہب بنے۔
سنہ 1899 میں سٹالن کو آرتھوڈکس مسیحی سکول سے نکال دیا گیا تھا کیونکہ وہ امتحان میں شریک ہونے کی بجائے اشتراکی تحریک میں مصروف ہوگئے اور انقلاب اور اشتراکیت کی کتب کا مطالعہ کرنے لگ گئے۔
بعد ازاں جوزف سٹالن کی ازدواجی زندگی بھی خوشگوار ثابت نہیں ہوئی۔ پہلی بیوی کے انتقال کے بعد انہوں نے نادیزدا لیولوؤا سے دوسری شادی کر لی مگر ان کی دوسری بیوی نے سنہ 1929 میں خود کشی کر لی۔ 
اس کے علاوہ جوزف سٹالن کے اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ بھی تعلقات اچھے نہیں تھے۔ پہلی بیوی سے ان کے بیٹے یاکوف زوگاشولی کو دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوج نے گرفتار کر لیا تھا لیکن اسے چھڑانے کے لیے انہوں نے کچھ نہ کیا۔
یاکوف زوگاشولی 31 مارچ 1907 کو باجی کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ والدہ کی وفات، باپ کی مصروفیت اور زار روس کے سپاہیوں سے مسلسل فرار کی وجہ سے یاکوف کی پرورش ان کی خالہ نے کی، یہاں تک کہ وہ 14 سال کے ہوگئے۔
سنہ 1921 میں یاکوف ماسکو آئے اور جہاں ان کی اپنے والد سے ان کی پہلی ملاقات ہوئی۔

جوزف سٹالن اپنی ماں کی توقعات پر بھی پورے نہیں اتر سکے جو چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا راہب بنے (فوٹو: العربیہ)

ماسکو میں رہائش اختیار کرنے کے باوجود باپ اور بیٹے میں بہت سے اختلافات تھے۔ دونوں میں اختلافات نے اس وقت شدت اختیار کر لی جب یاکوف جس خاتون سے شادی کرنا چاہتے تھے وہ ان کے والد کو پسند نہیں تھی۔
یاکوف زوگاشولی کی ایک بیٹی تھی جو اچانک چل بسی۔ اس کے سبب ان کی نفسیاتی حالت بہت خراب ہوگئی یہاں تک کہ انہوں نے خودکشی کی کوشش کی لیکن کریملن کے ڈاکٹروں نے انہیں بڑی مشکل سے بچا لیا۔
اس کے بعد سٹالن نے اپنے بیٹے کو ناکام شخص قرار دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ ان کا بیٹا ایسا ناکام شخص ہے کہ وہ خود کو گولی مار کر بھی ہلاک نہیں کر سکتا۔
دوسری طرف یاکوف سوویت یونین کی فوج میں بھرتی ہوگئے اور باپ کی وجہ سے بہت جلد اونچے عہدے تک پہنچ گئے۔
جرمن افواج کی سوویت یونین پر چڑھائی کے ایک ماہ پہلے یعنی سنہ 1941 میں یاکوف سوویت یونین کی فوج میں لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائز ہوگئے۔
 22جون 1941 کو جب جرمن فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ ایک عام فوجی کی طرح محاذ پر موجود تھے۔ ان کے والد جوزف سٹالن نے انہیں محاذ سے کسی اور جگہ منتقل کرنے میں کوئی مداخلت نہیں کی۔
پھر جلد ہی جرمن افواج فاتح بنتی آگے بڑھتی گئیں یہاں تک کے 16 جولائی 1941 کو یاکوف جنگی قیدی کے طور پر جرمن افواج کے قبضے میں تھے۔
قیدی بنائے جانے والے ایک شخص نے اپنی رہائی کے لیے جرمن افواج کو بتا دیا کہ یاکوف جوزف سٹالن کے بیٹے ہیں۔ یہ معلوم ہونے پر جرمنوں نے ان سے تفتیش شروع کر دی۔


14 اپریل 1945 کو یاکوف زوگاشولی نے جرمن کی قید سے فرار کی کوشش میں برقی تاروں پر چھلانگ لگا دی (فوٹو: العربیہ)

یاکوف نے جرمن افواج کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا اور نہ ہی انہیں کوئی مفید معلومات فراہم کیں۔ اس پر جرمن افواج نے میڈیا میں یہ خبریں پھیلانا شروع کر دیں کہ سٹالن کا بیٹا جنگی قیدی بن گیا ہے اور عنقریب سوویت یونین پر قبضہ ہونے جا رہا ہے۔
پھر سٹالن گراڈ کا حتمی معرکہ ہوا جس میں جرمن افواج کو شکست ہوئی۔ اس وقت ہٹلر نے سٹالن کو پیشکش کی کہ ہم یاکوف کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ سوویت یونین میں قید جرمن مارشل اور دیگر اہم جنگی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔
اس پر سٹالن نے پیشکش یہ کہہ کر ٹھکرا دی کہ ایک لیفٹیننٹ کے بدلے میں ہم مارشل کو رہا نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یاکوف میرا بیٹا ہے تو کیا ہوا، وہ ایک فوجی ہے جس طرح ہزاروں سوویت فوجی جرمنی کے قبضے میں ہیں۔
پھر 14 اپریل 1945 کو یاکوف زوگاشولی نے جرمن کی قید سے فرار کی کوشش میں برقی تاروں پر چھلانگ لگا دی اور وہیں ان کی موت واقع ہوگئی۔
جرمن افواج کا کہنا تھا کہ وہ فرار ہونے کی کوشش میں مارے گئے جبکہ سوویت یونین کے حکام کا کہنا تھا کہ جرمن افواج نے جنگی قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش ٹھکرانے پر انہیں قتل کر دیا تھا۔

شیئر: