نیٹو اتحادیوں کا آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ برطانیہ اس ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرے گا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
نیٹو کے اتحادی ممالک نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے منصوبے میں شامل نہیں ہوں گے اور اس کے بجائے وہ صرف لڑائی ختم ہونے کے بعد ہرمز کھلوانے کے لیے کردار ادا کریں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ اقدام صدر ٹرمپ کو ناراض کرنے اور اتحاد میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس آبی گزرگاہ میں تمام بحری ٹریفک کو بلاک کرے گی، یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ہفتے کے اختتام پر پاکستان میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔
بعد میں امریکی فوج نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی جو پیر کو شروع ہوئی، صرف ان جہازوں پر لاگو ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں یا وہاں سے آ رہے ہوں۔
جنگ کے آغاز 28 فروری سے ایران نے آبنائے ہرمز کو زیادہ تر جہازوں کے لیے بند کر رکھا ہے، صرف ایرانی جہازوں کو استثنیٰ حاصل ہے۔ ایران مبینہ طور پر اس آبی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کو مستقل بنانے اور ممکنہ طور پر اس کے استعمال پر فیس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ’ناکابندی جلد شروع ہو جائے گی اور دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔‘
تاہم برطانیہ اور فرانس سمیت نیٹو اتحادیوں نے کہا ہے کہ وہ اس ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوں گے اور اس کے بجائے اس آبی راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اقدام پر کام کر رہے ہیں، جہاں سے عالمی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ برطانیہ اس ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’میرا فیصلہ واضح ہے کہ چاہے جتنا بھی دباؤ ہو، ہم اس جنگ میں نہیں گھسیٹیں گے۔‘
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُٹے نے یورپی حکومتوں کو بتایا ہے کہ ٹرمپ جلد ہی آبنائے ہرمز کے لیے عملی اقدامات چاہتے ہیں، جبکہ فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا کہ فرانس برطانیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایک کثیر القومی مشن تشکیل دینے کے لیے کانفرنس منعقد کرے گا تاکہ اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت بحال کی جا سکے۔