Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی فوری ناکہ بندی کرے گی: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی، جس سے ایران کے ساتھ ناکام مذاکرات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اُس وقت دیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے لکھا ’ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق ہوا، تاہم دونوں فریق ایران کے جوہری پروگرام پر متفق نہ ہو سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نےلکھا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی کرے گی، جبکہ بین الاقوامی پانیوں میں اُن تمام بحری جہازوں کو بھی روکا جائے گا جنہوں نے ایران کو ٹول ادا کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی تباہ کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ کسی بھی ایرانی کی جانب سے امریکی افواج یا پرامن جہازوں پر حملہ کیا گیا تو سخت جواب دیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان چھ ہفتوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔ ان جھڑپوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جبکہ عالمی معیشت متاثر اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اتوار کی صبح اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے تھے جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکراتی وفد کے ساتھ واپس امریکہ روانہ ہوگئے تھے۔
اتوار کی صبح اسلام آباد کے ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ’ایک اچھی اور ایک بری خبر‘ کا تذکرہ کیا۔
ان کے مطابق ’ہم نے ایرانیوں کے ساتھ کافی ٹھوس بات چیت کی ہے، یہ اچھی ہے اور بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچے۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ خبر امریکہ کے لیے جتنی بری ہے، اس سے کہیں زیادہ ایران کے لیے ہے۔‘ امریکہ کے نائب صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کی ہیں جو کہ ایران نے تسلیم نہیں کیں۔
ان کے مطابق ایرانی وفد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی واضح عزم سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب ایرانی وفد کے سربراہ  محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’مذاکرات سے قبل میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ہمارے پاس ضروری حسنِ نیت اور ارادہ موجود ہے لیکن پچھلی دو جنگوں کے تجربات کی بنیاد پر ہمیں دوسرے فریق پر قطعاً بھروسہ نہیں۔‘
ان کے مطابق ’ایرانی وفد نے مستقبل کے حوالے سے کئی اقدامات اور تجاویز پیش کیں لیکن دوسرا فریق بالآخر مذاکرات کے اس دور میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔‘
ان کے مطابق ’امریکہ نے ہماری منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے اور اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ ہمارا اعتماد جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔‘
محمد قالیباف نے مزید کہا کہ ہم ’باوقار سفارت کاری‘ کو ایرانی قوم کے حقوق کے حصول کے لیے عسکری جدوجہد کے ساتھ ساتھ ایک متبادل طریقہ کار سمجھتے ہیں اور ایرانیوں کے 40 روزہ 'قومی دفاع' کے ثمرات کو مستحکم کرنے کی کوششوں سے ایک لمحے کے لیے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مذاکرات میں سہولت کاری پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

شیئر: