’بنفشی سونا‘: طائف میں لیونڈر کے فارمز سرمایہ کاری اور زرعی سیاحت کے لیے ایک نیا موقع
عالمی معیار کے بہترین لیونڈر کی افزائش کے لیے مثالی ماحول ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
سروات کے پہاڑی سلسلے اور خصوصاً طائف کے بالائی علاقے نے ان دنوں ایک دلکش ارغوانی چادر اوڑھ لی ہے جس کی وجہ مقامی کاشتکاروں کی جانب سے لیونڈر کی کاشت میں اضافہ ہے۔
یہ پودا ایک ایک نئے معاشی اور سیاحتی ذریعے کے طور پر ابھر رہا ہے جو مملکت کے وژن 2030 کے اہداف یعنی زرعی پیداوار میں تنوع اور ماحولیاتی سیاحت کے فروغ سے ہم آہنگ ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے نمائندے نے طائف کمشنری کے علاقے الشفا اور الھدیٰ کی چوٹیوں پر پھیلے لیونڈر کے درختوں کا مشاہدہ کیا۔
معتدل آب و ہوا، زرخیز مٹی اور سطح سمندر سے بلند مقام نے عالمی معیار کے بہترین لیونڈر کی افزائش کے لیے مثالی ماحول فراہم کرتے ہیں۔
ایک فارم کے مالک عیضہ الطویرقی کا کہنا تھا کہ ’لیونڈر دراصل سروات کے پہاڑی سلسلے کا مقامی پودا ہے اور یہ پودینہ، روز میری اور دیگر خوشبودار جڑی بوٹیوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔‘
ان کے مطابق یہ پودا کم پانی میں بھی بآسانی نشوونما پاتا ہے اور پہاڑی موسمی حالات کو بخوبی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی کاشت بڑھ رہی ہے۔
الطویرقی کا کہنا تھا کہ یہ فارمز نہ صرف تفریحی سرگرمیوں کے حوالے سے کامیاب ہیں، بلکہ مقامی معیشت کو سہارا دینے اور فطرت کو ثقافت سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

’زرعی سیاحت کے ایک منفرد ماڈل کے طور پر یہ فارمز ہزاروں سیاحوں اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔‘
سروات کے پہاڑوں میں لیونڈر کی کاشت صرف حسن و جمال تک محدود نہیں بلکہ یہ پائیدار دیہی ترقی کے منصوبوں کا حصہ بھی ہے۔ اس کے ذریعے سعودی نوجوانوں کے لیے خوشبودار تیل نکالنے اور زرعی مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
لیونڈر کے پودے کی کاشت ایک منافع بخش زرعی منصوبہ ہے جس کے خوشبودار تیل اور دیگر مصنوعات کی مانگ طائف کے مشہور گلاب کی طرح بہت زیادہ ہے۔

اس پودے کے بنفشی پھولوں سے معیاری عرق کشید کیے جاتے ہیں جبکہ پھولوں کو خشک کرکے بھی فروخت کیا جاتا ہے۔ اس سے صابن اور کریمیں اور دیگر کاسمیٹک مصنوعات بھی تیار کی جاتی ہیں۔
لیونڈر جسے ’بنفشی سونا‘ بھی کہا جاتا ہے اپنی اہمیت برقرار رکھتے ہوئے روایت اور جدید صنعت کے درمیان ایک خوبصورت پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ نہ صرف اپنے رنگ کی دلکشی بلکہ افادیت کی گہرائی سے بھی دل موہ لیتا ہے جو گھروں اور کھیتوں میں حسن و سکون کی علامت بن کر فطرت کی فیاضی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
