Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ویمن گیمز: خیبرپختونخوا کے 14 اضلاع کی کھلاڑیوں نے حصہ نہیں لیا

صوبائی حکومت کی جانب سے ان کھیلوں پر تین کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ فائل فوٹو: اے پی پی
محکمہ کھیل خیبرپختونخوا کی جانب سے انڈر 21 ویمینز گیمز میں 35 اضلاع میں سے 14 اضلاع کی خواتین کھلاڑیوں نے شرکت نہیں کی۔
سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی جانب سے سات کھیلوں کے انعقاد میں بندوبستی اضلاع کے ساتھ ساتھ قبائلی اضلاع کی خواتین کھلاڑیوں نے شرکت کرنی تھی۔
منگل کو پشاور کے سپورٹس کمپلیکس میں انڈر21 فیمیلز گیمز کی افتتاحی تقریب میں قبائلی اضلاع جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان،کرم، اورکزئی کے ساتھ بندوبستی اضلاع میں سے بٹگرام، کوہستان کے تینوں اضلاع، شانگلہ اور تورغر کی خواتین کھلاڑیوں نے شرکت نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق دیر اپر اور دیر لوئر کے ٹیموں میں دیر سے تعلق رکھنے والی خواتین کی جگہ پشاور کی لڑکیوں کو شامل کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے ان کھیلوں پر تین کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے جس سے صوبے بھر میں نئے ٹینلٹ کو سامنے لایا جائے گا۔
سپورٹس ڈائریکٹریٹ ذرائع کے مطابق تمام اضلاع کو کِٹ اور شوز دینے کے باوجود کئی اضلاع کی کھلاڑیوں نے کھیلوں کے مقابلے میں شرکت نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق انڈر 21 فیمیلز گیمز کے اتھلیٹکس کے مقابلے پشاور سپورٹس کمپلیکس، والی بال کے میچز پشاور یونیورسٹی جبکہ دیگر تمام کھیلوں کے مقابلے درگئی، صوابی اور چارسدہ میں منعقد ہوں گے۔
اس حوالے سے ڈائریکٹر سپورٹس رشیدہ غزنوی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’سپورٹ ڈائریکٹریٹ نے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز کو شرکت کی دعوت دی تھی اور جن اضلاع کے کھلاڑی تیار تھے، انہوں نے ان گیمز میں حصہ لیا ہے، تاہم بعض اضلاع سے کھلاڑیوں نے کچھ وجوہات کے بنا پر حصہ نہیں لیا۔‘
مقابلوں میں دوسرے اضلاع کی ٹیموں میں پشاور کی لڑکیوں کو شامل کرنے کے حوالے سے رشیدہ غزنوی نے بتایا کہ ’یہ صرف افواہ ہے اور ایک اچھے ایونٹ کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کالجز کے مقابلے نہیں ہو رہے بلکہ ضلع کی سطح پر مقابلے ہونے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام اضلاع کے سپورٹس آفیسرز کو احکامات جاری کیے گئے جبکہ کھلاڑیوں کی مکمل تفصیلات ان کے پاس موجود ہیں۔ ان مقابلوں کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔‘

صوبائی ڈائریکٹر سپورٹس کے مطابق مقابلوں کا مقصد مختلف اضلاع کی خواتین کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی کو کوئی شک ہے تو وہ آ کر معلومات حاصل کر کے اسے دور کر سکتا ہے، خواتین کا اتنا بڑا پروگرام ہو رہا ہے لہٰذا اس طرح کے افواہ کی بنیاد پر ایونٹ کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’جن اضلاع کے ڈی ایس اوز  نے اپنے ٹرائل مکمل کر کے سلیکشن کی تھی انہوں نے حصہ لینے کے حوالے سے تصدیق بھی کر دی تھی، ضم شدہ اضلاع باجوڑ اور خیبر سے ہمیں کنفرمیشن آئی ہوئی تھیں جبکہ باقی اضلاع سے کھلاڑیوں نے حصہ نہیں لیا۔‘
ڈائریکٹر سپورٹس نے بتایا کہ ’اضلاع کا اپنا ایک طریقہ کار ہے اور ان کے اپنے معاشرتی مسئلے بھی ہیں۔ وہاں پر خواتین کا زیادہ تر کھیلوں میں حصہ لینا اور کسی دوسرے اضلاع جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا جبکہ ہم بھی ان پر کوئی زبردستی نہیں کر سکتے۔  ڈی ایس اوز  نے اپنی پوری کوشش کی ہے لیکن ان اضلاع کی خواتین نے کھیلنے کی اجازت نہ ملنے کے باعث حصہ نہیں لیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کھیلوں کے انعقاد کا مطلب صوبے کے مختلف اضلاع سے خواتین کو کھیلوں کے مواقع فراہم کرنا اور نئے ٹیلینٹ کو اجاگر کرنا ہے۔ 

شیئر: