Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بحران، بحران اور پھر بحران: ماریہ میمن کا کالم

ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کر دیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
ملک آئینی بحران سے دوچار ہے۔ حکومت کا اختتام ہو چکا ہے۔ پارلیمنٹ ہے بھی اور نہیں بھی۔ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ وقت کم ہے اور مسائل سنگین۔ 60 دن کی حد ہے اس لیے فیصلہ بھی فوری ہونا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس بحران کے بعد کوئی بہتری کی صورت ہے؟
جواب اس کا یہ ہے کہ بدقسمتی سے آگے بھی کوئی خوشگوار صورت نہیں۔ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ اپوزیشن کے حق میں آیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ سپیکر کی رولنگ غیر موثر ہے، اسمبلی بحال ہو جائے گی اور تحریک عدم اعتماد پیش ہو کر زیادہ امکان ہے کہ کامیاب ہو جائے گی۔
اس کے بعد عمران خان پھر وزیر اعظم نہیں رہیں گے مگر ان کے پاس ایک قانونی اختیار رہے گا اور وہ ہے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا۔ ان کے ساتھی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیں گے۔ اس صورت میں اسمبلی میں اگر قانون سازی ہو گی بھی تو اس پر کافی تحفظات ہوں گے۔
مختصر یہ کہ اس وقت کی حکومت کے رنگ میں بھنگ ہو گا اور حکومت جس کی بظاہر مدت پہلے ہی کچھ ماہ ہونے کی توقع ہے، وہ چند ماہ بھی عملاً غیرمؤثر رہے گی۔ 
اب آتے ہیں دوسرے امکان کی طرف۔ اگر پی ٹی آئی حکومت کا موقف سپریم کورٹ میں صحیح مان لیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ملک یا کم از کم وفاقی سطح پر الیکشن اناؤنس ہو جائیں گے۔ مگر صوبوں میں صورتحال جوں کی توں رہے گی۔ زیادہ امکان ہے کہ ایسا پریشر بنے گا کہ چاروں اسمبلیاں بھی تحلیل ہوں اور ایک ہی دن سارے انتخابات ہوں۔ مگر اس پر اتفاق کیسے ہو گا؟
عمران خان تو کسی مخالف سے بات کرنے کو تیار نہیں ہوں گے اور موجودہ حالات میں پی ڈی ایم کے جذبات بھی ایسے ہی ہوں گے۔ اس صورتحال میں کسی تیسری قوت کو چیزوں کو ایک سمت میں لانا ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ملک میں جمہوریت کے لیے بہتر ہو گا؟  

صدر پاکستان نے قومی اسمبلی توڑنے کا حکم نامہ جاری کر دیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی 

اب اگر انتخابات کے امکان کو آگے بڑھائیں تو نگران حکومت کا تعین اپوزیشن لیڈر اور جانے والی حکومت کے سربراہ کی مشاورت سے ہوتا ہے۔ ایسی مشاورت اور اتفاق کا بھی امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کو ہی کرنا پڑے گا۔
مگر اصل بحران الیکشن کے دوران پیدا ہو گا۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ کے قوانین منظور ہو چکے ہیں مگر الیکشن کمیشن کے پاس غالباً ابھی وسائل اور تیاری نہیں کہ ان کو پوری طرح نافذ کر سکے۔
مزید چونکہ یہ ایک نیا تجربہ ہو گا اس لیے فریقین اس پر اعتراضات کی بھر مار کریں گے اور وقت محدود ہونے کے وجہ سے اختلافات اور بڑھیں گے۔
انتخابات کا ذکر ہو تو الیکشن مہم جذبات اور مخالفت سے بھر پور ہو گی۔ عمران خان صاحب نے پچھلا الیکشن کرپشن کے بیانیے پر لڑا تھا اب اس میں غداری، سازش اور خرید و فروخت کا بھی اضافہ ہو چکا ہے۔
پی ڈی ایم کی طرف سے بھی اضطراب نمایاں ہے۔ انتخابی مہم میں ناخوشگوار واقعات کا امکان اس ماحول میں بہت بڑھ جاتا ہے۔ آخر میں جب نتائج آئیں گے تو اس پر علیحدہ اختلاف ہو گا۔ بہت کم امکان ہے کہ تمام پارٹیاں نتائج کو تسلیم کر لیں۔

ڈی چوک کو جانے والے تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کیے گئے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

کیا تین مہینے بعد ملک میں صورتحال آخر کار پرسکون ہو گی یا پھر کوئی پارٹی نتائج تسلیم کرنے کے بجائے سڑکوں پر ہوگی یا ایوان سے واک آؤٹ کر رہی ہو گی۔ یہ تمام نقشہ حوصلہ افزا نہیں مگر اس کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سوال یہ کہ ہماری سیاسی قیادت میں کب دور اندیشی اور فہم و فراست آئے گی کہ وہ ملک کو بحران میں ڈالنے کے بجائے ان میں سے نکالیں گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ سیاسی قیادت بیساکھیوں اور بیرونی مدد کے بجائے اپنی سیاسی قوت پر بھروسہ رکھیں گے اور حکومت ہو یا اپوزیشن اپنا تعمیری کردار ادا کریں گے۔
کب ہماری اپوزیشن حکومت کو اپنی مدت پورا کرنے کا موقع دے گی اور کب ہماری حکومت اپوزیشن کو دشمن نہیں سیاسی مخالف سمجھے گی۔ جب تک ایسا نہیں ہو گا اس وقت تک ایوانوں کے بجائے فیصلے ایوانوں سے باہر ہوں گے اور عوام کا سیاست پر اعتماد بدستور متزلزل رہے گا۔

شیئر: