Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپریم کورٹ کا فیصلہ: ’نظریہ ضرورت دفن‘ اور ’میرا کپتان سیریز ہار گیا‘

سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کو بحال کردیا ہے۔ (تصویر: اردو نیوز)
پاکستان کی سپریم کورٹ نے جمعرات کی شام قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رولنگ کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی کو بحال کردیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے متفق طور پر احکامات جاری کیے ہیں کہ سنیچر نو اپریل کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے۔
جہاں پاکستانی سوشل میڈیا پر صارفین اس فیصلے کو ’تاریخی قرار‘ دے رہے ہیں وہیں دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامی اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کررہے ہیں۔
قانونی ماہر ریما عمر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’آئین کے تقدس پر ایمان مزید پختہ ہوا ہے، نظریہ ضرورت دفن کردیا گیا ہے۔‘

انگریزی اخبار کے سابق ایڈیٹر عباس ناصر نے بھی اپنی ٹویٹ میں نظریہ ضرورت کو دفنانے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے اپنی ساکھ بحال کرلی ہے۔‘
پاکستانی اینکر پرسن منصور علی خان نے سپریم کورٹ کے پانچ ممبر بینچ کے متفقہ فیصلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا کپتان 5-0 سے سیریز ہار گیا۔‘
صحافی و اینکرپرسن عادل شاہزیب نے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’آئین کی سنگین خلاف ورزی کو کالعدم قرار دینا تاریخ کے بڑے سرپرائز کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔‘

انسانی حقوق کی کارکن مینا گبینا نے لکھا ’میں خوشی کے آنسو نہیں روک پا رہی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہے۔‘
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک تصویر ٹویٹ کی جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ٹی وی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھ رہے ہیں۔

واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان کی حکومت گرانے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر سازش کررہے ہیں۔
پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس نے ایک ٹویٹ میں اپنی جماعت کے حامیوں کو انتظار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا ’وزیراعظم عمران خان اگلا قدم اٹھائیں گے۔ مایوس نہ ہوں۔‘
عدالتی فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے جمعے کو ملک بھر میں ’یوم تشکر‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی فواد چوہدری نے عدالت کے فیصلے کو ’بدقمست‘ قرار دیا۔
انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’اس بد قسمت فیصلے نے پاکستان میں سیاسی بحران میں بہت اضافہ کردیا ہے۔ فوری الیکشن ملک میں استحکام لا سکتا تھا، بدقسمتی سے عوام کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے، ابھی دیکھتے ہیں معاملہ آگے کیسے بڑھتا ہے۔

شیئر: